انکساری  و عاجزی کا نام تواضع ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! جو شاخ جتنے زیادہ پھلوں والی ہوتی ہے ‏اس میں اتنا ہی زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے ،اسی طرح جو بارگاہ الہی میں جتنا زیادہ مقبول ہو اس میں اتنی ہی ‏زیادہ عاجزی و انکساری ہوتی ہے عاجزی و انکساری میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اس کا تقاضہ یہ ‏ہے کہ وہ بارگاہ الہی میں تواضع اختیار کرے اور ان کے سامنے بھی جن کے لئے خود اللہ پاک نے تواضع کا ‏حکم دیا جیسے انیبا ء کرام ،حاکم ،عالم اور والد نیز مسلمانوں کے ساتھ عاجزی اختیار کرنا مستحب ہے ‏ ۔

آئیے ہم قرآن پاک سے تواضع کے بارے میں قرآن پاک سے وضاحت ملاحظہ کیجئے :‏

تواضع اختیار کرنے کا حکم : اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمہ کنزالعرفان :اور مسلمانوں کے لئے اپنے بازو ‏بچھادو ۔ (سورۃ الحجر آیت نمبر88)‏

یعنی ا ے حبیب! ﷺ ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے ‏سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (صاوی، ‏الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۱۰۵۱)‏

تواضع پیدا کرنے کا طریقہ :‏وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ‏ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ ( لقمان، آیت نمبر18)‏

اس آیت کریمہ میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو کی ہوئی نصیحت کو ذکر کیا گیا ہے ،فرمایا اے میرے بیٹے جب تو کسی ‏آدمی سے بات کرے تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیارنہ کرنا ‏بلکہ مال دار اور فقیر سب کے ساتھ عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آنا ۔

کامل مومن کی نشانی :‏وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز العرفان : ‏اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ ( فرقان، آیت نمبر63)‏

امام مجاھد رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ،اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت میں تواضع اختیار کرتے ‏ہوئے چلتے ہیں ‏ ۔ (تفسیر بغوی ،فرقان،تحت الآیہ 63)‏

اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ‏ساتھ عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ‏ ۔

متواضعین کی اعلی مثال :‏قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح ایک ‏بشر ہوں ۔ (سورہ کہف آیت 110)

یعنی کہ مجھ پر بشری اعراض اور امراض طاری ہوتے ہیں اور سورت خاصہ میں کوئی بھی آپ کا مثل نہیں ہے ، اللہ تعالی ‏نے آپ کو حسن و صورت میں سب سے اعلی کیا ہے ، اور حقیقت و روح اور باطن کے اعتبار سے تمام انبیاء اوصاف بشر ‏سے آپ سب اعلی ہیں ۔ ‏(تفسیر خزائن العرفان ،سورہ کہف،آیت 110)‏

تواضع اختیار کرنے کی جزاء:‏وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز العرفان، اور عاجزی کرنے والوں کے لئے ‏خوشخبری سنا دو ۔ (سورۃ الحج آیت 34)

تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کو بڑے ثواب کی خوشخبری سنادو (یعنی) ‏اگر تم اللہ کی رضا کی خاطر عاجزی و انکساری پیدا کرو گے اور اپنے آپ کو ‏جکاؤ گے تو اللہ پاک تمہیں بڑا ثواب عطا کرے گا ‏ ۔ ہمیں بھی اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے تواضع اختیار کرنا چاہیئے تو ان شا اللہ الکریم دنیا وآخرت ‏میں کامیابی حاصل ہوگی ۔