ذیشان
احمد(درجۂ خامسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم بھینس کالونی کراچی ، پاکستان)
انکساری و عاجزی کا نام تواضع ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! جو شاخ جتنے زیادہ پھلوں والی ہوتی ہے اس میں
اتنا ہی زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے ،اسی طرح جو
بارگاہ الہی میں جتنا زیادہ مقبول ہو اس میں اتنی ہی زیادہ عاجزی و انکساری ہوتی ہے عاجزی و انکساری میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ
وہ بارگاہ الہی میں تواضع اختیار کرے اور
ان کے سامنے بھی جن کے لئے خود اللہ پاک نے تواضع کا حکم دیا جیسے انیبا ء کرام ،حاکم
،عالم اور والد نیز مسلمانوں کے ساتھ عاجزی اختیار کرنا مستحب ہے ۔
آئیے ہم قرآن پاک سے تواضع کے بارے میں قرآن پاک
سے وضاحت ملاحظہ کیجئے :
تواضع اختیار
کرنے کا حکم : اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمہ
کنزالعرفان :اور مسلمانوں کے لئے اپنے بازو بچھادو ۔ (سورۃ الحجر آیت نمبر88)
یعنی ا ے
حبیب! ﷺ ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت
کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور
ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے
بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۱۰۵۱)
تواضع پیدا
کرنے کا طریقہ :وَ لَا
تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ
لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور
زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند
ہے ۔ ( لقمان، آیت نمبر18)
اس آیت کریمہ
میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو کی ہوئی نصیحت کو ذکر کیا گیا ہے ،فرمایا اے میرے بیٹے جب تو کسی آدمی سے بات کرے تو
تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیارنہ کرنا بلکہ مال دار اور فقیر سب کے ساتھ عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آنا ۔
کامل مومن
کی نشانی :وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز العرفان : اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ ( فرقان، آیت
نمبر63)
امام مجاھد رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ،اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ
کی اطاعت میں تواضع اختیار کرتے ہوئے چلتے ہیں ۔ (تفسیر بغوی ،فرقان،تحت
الآیہ 63)
اس آیت میں
بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ
اطمینان اور وقار کے ساتھ عاجزانہ شان سے
زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔
متواضعین کی
اعلی مثال :قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح
ایک بشر ہوں ۔ (سورہ کہف آیت 110)
یعنی کہ مجھ پر بشری اعراض اور امراض طاری ہوتے ہیں اور
سورت خاصہ میں کوئی بھی آپ کا مثل نہیں ہے
، اللہ تعالی نے آپ کو حسن و صورت میں سب سے اعلی کیا ہے ، اور حقیقت و روح اور باطن کے اعتبار
سے تمام انبیاء اوصاف بشر سے آپ سب اعلی ہیں ۔ (تفسیر خزائن العرفان ،سورہ کہف،آیت 110)
تواضع اختیار
کرنے کی جزاء:وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ
کنز العرفان، اور عاجزی کرنے والوں کے لئے خوشخبری سنا دو ۔ (سورۃ الحج آیت 34)
تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کو بڑے ثواب کی خوشخبری
سنادو (یعنی) اگر تم اللہ کی رضا کی خاطر عاجزی و انکساری پیدا کرو گے اور اپنے
آپ کو جکاؤ گے تو اللہ پاک تمہیں بڑا ثواب عطا کرے گا ۔ ہمیں بھی اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے تواضع اختیار کرنا چاہیئے تو ان شا اللہ الکریم دنیا
وآخرت میں کامیابی حاصل ہوگی ۔
Dawateislami