اسلام ایک ایسا
دین ہے جو انسان کو اخلاقِ حسنہ، عجز و انکساری، عدل و انصاف، اور انسانیت کی
بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ۔ ان اعلیٰ اخلاق
میں سے ایک خُلق تواضع (عاجزی و انکساری) ہے، جو ایمان کی علامت اور تقویٰ کی
پہچان ہے ۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر
تواضع کی فضیلت بیان کی اور تکبر و غرور کی مذمت کی ہے ۔ درحقیقت تواضع وہ صفت ہے جو انسان کو اپنے خالق
کے سامنے جھکنے اور مخلوق کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آنے کا درس دیتی ہے ۔
تواضع کی تعریف:لفظ "تواضع"
عربی مادہ وضع سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "جھکنا" یا "نیچا
ہونا" ۔ اصطلاحی طور پر تواضع سے
مراد ہے کہ انسان خود کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے، بڑائی و فخر سے پرہیز کرے، اور
اپنی حیثیت کے باوجود دوسروں کے ساتھ نرمی، احترام اور حسنِ سلوک سے پیش آئے ۔ اسلام
میں تواضع محض ظاہری نرمی نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے، جو انسان کو غرور، خود پسندی
اور تکبر سے پاک کرتی ہے ۔
1، مومنین
کی صفت کے طور پر تواضع:اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں یعنی "عبادُ
الرَّحمٰن" کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)ترجمہ کنز العرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب
جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (سورۃ الفرقان: 63)
یہ آیت اس
بات کی واضح دلیل ہے کہ حقیقی بندگی کا تقاضا تواضع ہے ۔ "عاجزی کے ساتھ چلنا" سے مراد صرف
چلنے کا انداز نہیں بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں نرم خوئی، وقار، اور انکساری اختیار
کرنا ہے ۔ مومن اپنی طاقت، علم یا دولت پر
فخر نہیں کرتا بلکہ خالق کے سامنے عاجز رہتا ہے ۔
2، تکبر کی
مذمت اور تواضع کی ترغیب:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا تکبر کو ناپسندیدہ
عمل قرار دیا اور متواضع بندوں کی تعریف فرمائی:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمہ کنز العرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین
کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)
یہ آیت
انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے کہ غرور بے معنی ہے ۔ انسان مٹی سے بنا ہے، اس کی طاقت محدود ہے، اس
لیے اسے ہر حال میں عاجزی اختیار کرنی چاہیے ۔ اسی طرح سورۃ لقمان میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز العرفان : اورلوگوں سے بات کرتے وقت
اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے
والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (سورۃ لقمان: 18)
یہ تعلیم ایک
اخلاقی ضابطہ ہے کہ انسان دوسروں سے برتر ہونے کا احساس نہ کرے ۔
3، اہلِ ایمان کے باہمی تعلق میں تواضع:قرآن مجید
مومنوں کو آپس میں محبت اور انکساری اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے:وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ
لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنز العرفان: ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور
مسلمانوں کیلئے آپنے بازو بچھا دو ۔ (سورۃ
الحجر: 88)
یہ آیت نبی
اکرم ﷺ کو خطاب کے ساتھ تمام مسلمانوں کے لیے مثال ہے کہ دوسروں سے برتاؤ میں نرمی
اور تواضع آپناؤ ۔ "بازو
جھکانا" بطور استعارہ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ دوسروں پر رعب نہ
جماؤ بلکہ ان کے ساتھ محبت، شفقت اور احترام کا برتاؤ کرو ۔
انبیائے
کرام کی تواضع کے قرآنی نمونے:قرآن کریم میں انبیائے کرام علیہم السلام کے کردار
میں تواضع کی بے شمار مثالیں موجود ہیں:
حضرت محمد ﷺ:اللہ کے
محبوب ﷺ کی پوری زندگی تواضع کا عملی مظہر تھی ۔ قرآن نے آپ کو حکم دیا: وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵) ترجمہ کنز العرفان: اور اپنے پیروکار مسلمانوں کے
لیے اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ ۔ (سورۃ
الشعراء: 215)نبی کریم ﷺ صحابہ میں بیٹھتے تو کوئی پہچان نہ پاتا کہ کون سردار ہے
۔ آپ نہ کبھی غرور کرتے، نہ امتیاز برتتے
۔ یہی قرآن کے حکم کی عملی تفسیر تھی ۔
تواضع کے معاشرتی فوائد:تواضع فرد
اور معاشرے دونوں کے لیے رحمت ہے ۔
1، محبت و
بھائی چارہ: عاجز انسان دوسروں کے دل جیت لیتا ہے، جس سے معاشرتی رشتے مضبوط ہوتے
ہیں ۔
2، عدل و
انصاف: متواضع شخص دوسروں کے حقوق تسلیم کرتا ہے، جس سے ظلم اور ناانصافی ختم ہوتی
ہے ۔
3، علم میں
برکت: جو طالبِ علم یا عالم تواضع اختیار کرتا ہے، وہ ہمیشہ سیکھنے والا رہتا ہے ۔
4، اللہ کی
قربت: قرآن و سنت کے مطابق عاجزی اللہ کی رضا کا سبب اور تکبر اس کے غضب کا باعث
ہے ۔
عصرِ حاضر میں تواضع کی ضرورت:آج کے دور
میں مادیت، خود پسندی اور انا پرستی نے انسان سے سکون چھین لیا ہے ۔ ہر شخص برتری کی دوڑ میں ہے ۔ ایسے ماحول میں قرآن کی تواضع پر مبنی تعلیمات
انسانیت کو دوبارہ توازن اور محبت کا درس دیتی ہیں ۔ اگر افراد اور قیادتیں تواضع آپنائیں تو معاشرتی
نفرتیں ختم ہو جائیں اور امن و انصاف کا دور قائم ہو سکتا ہے ۔ قرآن کریم کے نزدیک
تواضع ایمان کا زیور، اخلاقِ حسنہ کی بنیاد، اور روحانی بلندی کا ذریعہ ہے ۔ یہ انسان کو خالق کے قریب اور مخلوق کے دلوں میں
محبوب بناتی ہے ۔ تکبر زوال کا سبب اور
عاجزی ترقی کا ذریعہ ہے ۔ لہٰذا ہمیں قرآن
کے اس پیغام کو حرزِ جان بنانا چاہیے کہ
لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ
وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا
ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (سورۃ النحل: 23)
اور یاد
رکھنا چاہیے کہ جو اللہ کے لیے جھکے گا، اللہ اسے بلند کرے گا ۔ پس تواضع ایمان کی
علامت اور اخلاق کی معراج ہے ۔ یہی قرآن
کا پیغام اور نجات کا راستہ ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں تواضع و انکسار اپنانے کی توفیق
عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ
Dawateislami