محمد
منیب الرحمن عطاری (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینۃ اپر مال روڈ لاہور، پاکستان)
تواضع کا
لغوی معنی:تواضع"
عربی لفظ وَضَعَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں جھکنا، نیچا ہونا، نرم ہونا یا خود کو
کم ظاہر کرنا ۔
تواضع کا
اصطلاحی معنی:علماءِ اخلاق اور صوفیاءِ کرام کے نزدیک تواضع سے مراد ہے:انسان کا اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھنا، حق کو قبول کر لینا، اور
اللہ و مخلوق کے سامنے عاجزی اختیار کرنا ۔
امام
غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:نفس کو کمتر اور حقیر جاننے کے خیال کو تو اضع کہتے ہیں کہ اس سے عاجزی و انکساری پیدا ہوتی
ہے ۔ (منہاج العابدین: صفحہ نمبر 176 ۔ مکتبۃ المدینہ)
انسان کے
مادے میں ہمیشہ دو چیزیں پائی جاتی ہیں:اول :عاجزی و انکساری ۔ دوم: تکبر و بڑھائی
اگر انسان
رحمٰن عزوجل کی مان کر تواضع و انکساری
کرے گا تو جنت کا مصداق بنے گا ۔ وگرنہ شیطان لعین کی مان کر تکبر میں پڑ کر
کہی عذاب نار کا مستحق نہ ہو جائے ۔ (العیاذ
باللہ)
حضور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ جس کہ دل میں
ذرہ برابر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں نہ جائےگا ۔ (صحیح
مسلم ،کتاب ایمان کا بیان ،باب :تکبر کے حرام ہونے کا بیان ،حدیث نمبر 91)
اور اس
تواضع و انکساری جیسی اعلیٰ صفت کو رب تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر ذکر
فرمایا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
اللہ کے
بندے زمین پر نرمی کے ساتھ چلتے ہیں :وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: اور رحمٰن
کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں
’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ نمبر 19 سورۃ الفرقان،آیت نمبر 63)
اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ
لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتےکھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
تکبر سے پرہیز کرو:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان :اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (لقمان ،18)
اس سے
معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے
ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار
کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات
ہیں ،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے ۔
اکڑ کر
چلنے کی مذمت:اس آیت میں اکڑ کر چلنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے،اسی
مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر
مشتمل دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :
(1)
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اقدس ص
ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی اپنے آپ کو
بڑا سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ
اس پر ناراض ہو گا ۔ ( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ
عنہما، ۲ / ۴۶۱، الحدیث: ۶۰۰۲)
(2)
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اکرم ص
ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب میری امت اکڑ کر
چلنے لگے گی اور ایران و روم کے بادشاہوں کے بیٹے ان کی خدمت کرنے لگیں گے
تو اس وقت شریر لوگ اچھے لوگوں پر
مُسَلَّط کر دئیے جائیں گے ۔ ( ترمذی،
کتاب الفتن، باب-۷۴، ۴ / ۱۱۵، الحدیث: ۲۲۶۸)
اللہ تعالیٰ
سب مسلمانوں کواس مذموم فعل سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے،اٰمین ۔
مسلمانوں
کے ساتھ نرمی اختیار کرو:لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا
مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ: کنز الایمان: اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو
نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو
برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے
لو ۔ (پارہ نمبر 14 سورۃالحجر،آیت نمبر 88)
اس آ یت کریمہ
کہ اس حصے وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ میں اللہ رب العالمین آپ ﷺ کے ذریعہ سے امت کو یہ سیکھا رہا ہے کہ مسلمانوں کے لیے آپنے
ہاتھوں کو پھیلاؤ اگر تم ان سے بڑے ہو تو
نرمی سے پیش آؤ اگر تم حکمران ہو تو عدل
سے پیش آؤ کہ تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہے (صحیح مسلم ،کتاب :حسن سلوک و صلح
رحمی ،حدیث نمبر 2586 )
محمد
شہریار ظفر (درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ امام اعظم گوجرخان
، پاکستان)
اسلام میں
تواضع مومن کیلئے ایک ضروری صفت ہے ۔ قرآن
کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تکبر سے بچنے اور تواضع اختیار
کرنے کا حکم دیا ہے ۔ تواضع کا معنی ہے کہ عاجزی و انکساری ہے اور اس سے مراد ہے
کہ، لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام
ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر
وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانےوالے اعمال کی معلومات،صفحہ۸۱)
قرآن پاک میں
تواضع(عاجزی) کا بیان:
1:عاجزی
کرنے والوں اور عاجزی کرنے والیوں کیلیے اللہ پاک نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر
رکھا ہے ۔ چنانچہ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ:اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ
الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ
وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ
وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمۂ کنز العرفان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان
عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور
فرمانبردار عورتیں اور سچے مرداور سچی عورتیں اور صبرکرنے والے اور صبر کرنے والیاں
اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں
اور روزے رکھنے والے اورروزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے
اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب
کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ22، الاحزاب، آیت 35)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ عاجزی کرنے والوں اور عاجزی کرنے والیوں کیلیے اللہ پاک نے بخشش
اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔
2: تکبر سے منع، عاجزی کا حکم:چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ترجمۂ کنز العرفان:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ
چل ۔ (پ15، بنی اسرائیل، آیت 37)
صراط
الجنان میں ہے کہ:یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب
ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار کے
ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند
ہے ۔
3:عزت عاجزی
میں ہے، تکبر میں نہیں:چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے کہ:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنز
العرفان:یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد
نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ (پ 28، القصص، آیت 83)
صراط
الجنان میں ہے کہ:اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام
ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم
نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و
شان والی نعمت پا سکتا ہے ۔
4: رب
العالمین کی طرف سے حضور ﷺ کو بھی مسلمانوں کے ساتھ عاجزی کا حکم:چنانچہ اللہ
پاک کا ارشاد ہے کہ:وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمۂ کنز العرفان: اور مسلمانوں کیلئے اپنے
بازو بچھا دو ۔ (پ 15، الحجر، آیت 88)
صراط
الجنان میں ہے کہ:یعنی ا ے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ
مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان
کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح
رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔
5: رحمٰن
عزوجل کے بندوں کی خصوصیات:چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمۂ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ
چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پ 25،
الفرقان، آیت 63)
صراط
الجنان میں ہے کہ:کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ
لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
قرآن کے
مطابق عاجزی مومن کیلئے ایک اچھا وصف ہے ۔ انسان کو اللہ کا مقرب بناتی ہے ۔ جنت
تک پہنچاتی ہے ۔ دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے ۔ تکبر سے بچاتی ہے جو شیطان کی صفت
ہے ۔ دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں بھی بلندی کا ذریعہ ہے ۔ پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں
چاہئے کہ ہم اپنی زندگی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کے مطابق عاجزی و اِنکساری پیدا
کریں اور تکبّر کی نَحُوست سے دُور رہیں ۔
تُو چھوڑ
دے تکبر ہو بھائی میرے عاجز چھائی ہے اس پہ رحمت کرتا ہے جو تواضُع ۔
اللہ پاک
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
عاکف علی (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے اپنے بندوں کے لیے جو اوصاف و خصائل پسند فرمائے ہیں، ان میں سے ایک نہایت عظیم
اور دلوں کو منور کرنے والی صفت تواضع ہے ۔
جب انسان کے اندر عاجزی پیدا ہو جاتی ہے تو اس کے معاملات سنور جاتے ہیں،
اس کی گفتگو میں نرمی آ جاتی ہے، رویّوں میں محبت اور دل میں سکون اتر آتا ہے
۔ عاجزی ایسا نورانی وصف ہے جو انسان کو
اللہ کے قریب اور لوگوں کی نظروں میں محبوب بنا دیتا ہے ۔
تواضع
(عاجزی) کی تعریف:لوگوں کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار
کرنا، اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کے بجائے خود کو کمزور و محتاجِ خدا ماننا تواضع
کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانے والے اعمال، ص 81)
1 ۔ مؤمن کی شان: آہستگی، وقار اور نرمی:اللہ
پاک فرماتا ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ
19، سورۃ الفرقان 63)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی ایک
علامت یہ بیان کی کہ وہ زمین پر اکڑ کر، شور مچاتے یا غرور کے انداز میں نہیں
چلتے، بلکہ ان کا طرزِ عمل سکون، وقار اور عاجزی سے بھرپور ہوتا ہے ۔ (صراط
الجنان، ج7، ص49)
2 ۔ حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی نصیحت:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ
مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز
العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے
ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (پارہ
21، سورۃ لقمان 18)
اس آیت
مبارکہ میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کو یہ باطنی تربیت دے رہے ہیں کہ
گفتگو میں تکبر کا انداز نہ اپنایا جائے، کسی کو حقیر نہ سمجھا جائے اور چلنے کے
انداز میں بھی غرور داخل نہ ہونے پائے ۔ (صراط الجنان، ج7، ص496)
3 ۔ نبی کریم ﷺ کی تواضع:وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنز العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو
بچھا دو ۔ (پارہ 14، سورۃ الحجر 88)
اللہ تعالیٰ
نے اپنے محبوب ﷺ کو حکم دیا کہ آپ مومنین کے لیے انتہائی شفقت اور تواضع کے ساتھ پیش
آئیں، بالکل ایسے جیسے پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پر بچھا کر انہیں آسرا دیتا ہے
۔ یہ آیت نبی ﷺ کی عاجزی اور امت کے لیے
محبت کا عظیم درس ہے ۔ (صراط الجنان، ج5، ص266)
تواضع کے
فوائد اور اس کی ضرورت:ان آیات کریمہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان کے
لیے تواضع صرف اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کی علامت ہے ۔ جو دل عاجزی سے خالی ہو،
وہ تکبر، غرور اور ریا جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اور جو دل تواضع سے بھر
جائے، اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے ۔ کیوں ضروری ہے کہ ہم عاجزی اختیار
کریں؟کیونکہ اللہ کے نزدیک محبوب وہی ہے جو جھکتا ہے ۔ غرور انسان کو ہلاک کر دیتا
ہے، جبکہ عاجزی دل کو پاک کرتی ہے ۔ عاجزی اختیار کرنے سے انسان کے اندر اخلاص،
تحمل، اور برداشت بڑھتی ہے ۔ معاشرے میں محبت اور احترام کا ماحول قائم ہوتا ہے ۔
تواضع پیدا
کیسے ہو؟
· قرآن پاک کا تدبر کے
ساتھ مطالعہ ۔
· احادیثِ مبارکہ اور سیرتِ
مصطفی ﷺ کے واقعات پڑھنا ۔
· غرور کے نقصانات اور
عاجزی کے فضائل پر غور کرنا ۔
· اپنے آپ کو اللہ کے
سامنے ہمیشہ محتاج سمجھنا ۔
· ان شاء اللہ، یہ چیزیں
ہمارے دلوں میں تواضع کی خوشبو بکھیر دیں گی ۔
توصیف
رضا عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن
شپ لاہور ، پاکستان)
تواضع کا
مطلب ہے: عاجزی اور انکساری ۔ لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبہ کے
اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور
چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانےوالے اعمال کی
معلومات،صفحہ۸۱)
تواضع کے عمل سے انسان کے اندر موجود تکبرو غرور
کی سرکشی اور باغی صفت دم توڑتی ہے ۔ تواضع انسان کی معاشرتی زندگی میں ایک لطافت پیدا کرتی ہے اور انسان کو
خاکسار بناتی ہے اور اپنی چال ڈھال میں عاجزی کو فروغ دیتی اور انسان دوسروں کو
قابل احترام و اکرام جانتا ہے ۔ آئیے اب
ہم تواضع کا بیان قرآن مجید فرقان حمیدسے ملاحظہ کرتے ہیں:
(1) اتراتے ہوئے نہ چلنا: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ
مَكْرُوْهًا(۳۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں ۔ ( پ 15بنی اسرائیل 17، آیات 37،38 )
(2) اچھا انجام پرہیز گاروں کے لیے : تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز العرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے
بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے
ہے ۔ (پ20 ، القصص 28 ، آیت 83 )
(4) آہستہ
چلنا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ ( پ19 ، الفرقان 25 ، آیت 63)
(5) حسن اخلاق سے پیش آنا :وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ
الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵)ترجمہ کنز العرفان: اور اپنے پیروکار مسلمانوں کے لیے اپنی رحمت
کابازو بچھاؤ ۔ ( پ 19 ، الشعراء 26 ،
آیت 215)
عاجزی کا ذہن بنانے اور اپنانے کے چند طریقے:
(1) عاجزی کے فضائل کا مطالعہ کیجئے ۔
(2) عاجزی سے متعلق بزرگانِ دِین کے فرامین کا
مطالعہ کیجئے ۔
(3) عاجزی نہ کرنے کے نقصانات پر غور کیجئے ۔
(4) تکبر کے اَسباب وعلاج کی معرفت حاصل کیجئے ۔
(5) تکبر کی علامات سے خود کو بچائیے ۔
اللہ تعالیٰ
عاجزی اختیار کرنے والوں کو پسند اور بلند
مقام عطا کرتا ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عاجزی کی دولت
سے سرفراز فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
عبدالرحمن عطّاری مدنی (تخصص فی اللغۃ العربیۃ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،
پاکستان)
تواضح"خوش اخلاقی سے پیش آنے
"کا نام ہے ۔ (فیروز اللغات،ت و،ص:387)یعنی نرمی اختیار کرنا،
دوسروں کو حقیر نہ جاننا، اپنی ذات کو بڑائی سے پاک رکھنا، اور ہر حال میں حقیقت
پسند رہنا ۔ انسان کی کامیابی صرف علم اور طاقت میں نہیں، بلکہ اس کردار میں ہے جو
اسے دوسروں کے لیے سہارا بناتاہے ۔ خوبصورت اخلاق انسان کو وہ مقام عطا کرتے ہیں جو مال و دولت نہیں دے سکتے
۔ آج کے خود غرض ماحول میں وہی دل روشن
ہوتا ہے جو تکبر سے پاک ہو اور تواضع یعنی عاجزی سے آراستہ ہو ۔ قرآن کریم نے بارہا بتایا کہ اللہ کا قرب انہی
کو ملتا ہے جو جھکنا جانتے ہیں، اکڑنا نہیں ۔ لہٰذا اعلیٰ انسانیت کے لیے تواضع ایک بنیادی وصف ہے ۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر وضاحت کے
ساتھ دیکھتے ہیں:
تواضع کا
عملی معیار: حق قبول کرنا:فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ
لَهُمْۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ
الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪-
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ
شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ-فَاِذَا عَزَمْتَ
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ
الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹)
ترجمہ کنزالایمان:تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے
لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان
ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو
اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو
پیارے ہیں ۔ (سورۃ آل عمران: 159)
معلوم ہوا
کہ نرم طبیعت انسان کے لیے اللہ کی خاص رحمت ہے ۔ جو شخص ہر حال میں اپنے لہجے اور
فیصلوں میں نرمی رکھے، وہی اللہ کا مقرب بندہ بنتا ہے ۔
بندگانِ رحمان کی پہچان : نرمی اور انکساری:ارشاد باری
تعالیٰ ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًاترجمہ کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان: 63)
بندگانِ خدا کی پہلی علامت : ان کی چال میں بھی
تکبر نہیں ہوتا ۔ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ حدیث
پاک میں ہے کہ: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔
(حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین
العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)
تکبر اللہ
کو ناپسند ہے، عاجزی محبوب:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ
مَكْرُوْهًا(۳۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں ۔ (سورۃ
بنی اسرائیل: 37،38)
تفسیر
جلالین میں ہے کہ یعنی تکبر و خود نمائی
سے نہ چل ۔ (جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳)
قرآن واضح
طور پر غرور سے منع کرتا ہے ۔ اکڑ کر چلنا صرف چال تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ
انداز جس میں انسان خود کو بڑا اور دوسروں کو چھوٹا سمجھے ۔
نیکی کا
حسن: بے تکلف رویہ:وَ اخْفِضْ
جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنزالعرفان: اور مسلمانوں کیلئے
اپنے بازو بچھا دو ۔ (سورۃ حجر:88)
یعنی نرم،
پیار بھرا اور عاجزانہ رویہ اختیار کرنا ۔ یہ آیت نبیِ کریم ﷺ کو خطاب ہے مگر اس میں
امت کے لیے بھی تعلیم ہے کہ عزت بڑھے تو رویہ مزید نرم ہو ۔ اس لیے اپنے ماتحت،
شاگرد یا کمزور افراد کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں کہ وہ آپ کے قریب آکر سکون محسوس کریں
بڑائی اللہ کے لیے، عاجزی انسان کے لیے:
اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنزالعرفان:بےشک وہ مغروروں کو
پسند نہیں فرماتا ۔ (سورۃ النحل: 23)
یہ قرآن کی
صریح ہدایت ہے ۔ جس دل میں تکبر ہو، اس میں
خیر کم ہوتا جاتا ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا ’’تکبر حق بات کو جھٹلانے اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے ۔ (مسلم،کتاب الایمان، باب تحریم الکبر
وبیانہ، ص۶۰، الحدیث: ۱۴۷(۹۱)
تواضع وہ
صفت ہے جو انسان کو لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتی ہے اور اللہ کے قریب کر دیتی ہے
۔ قرآن کریم نے اسے بندگانِ رحمان کا بنیادی
وصف قرار دیا ۔ جو انسان خود کو بڑا
سمجھتا ہے، وہ دراصل اللہ کی ناراضی کو دعوت دیتا ہے، اور جو جھک کر زندگی گزارے
وہ اللہ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے ۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنی گفتگو، چال ڈھال، رویے،
فیصلوں، اور تعلقات میں تواضع پیدا کریں کیونکہ عاجزی وہ وصف ہے جس سے انسان کی دنیا
بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی روشن ہوتی ہے ۔
Dawateislami