محمد
منیب الرحمن عطاری (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینۃ اپر مال روڈ لاہور، پاکستان)
تواضع کا
لغوی معنی:تواضع"
عربی لفظ وَضَعَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں جھکنا، نیچا ہونا، نرم ہونا یا خود کو
کم ظاہر کرنا ۔
تواضع کا
اصطلاحی معنی:علماءِ اخلاق اور صوفیاءِ کرام کے نزدیک تواضع سے مراد ہے:انسان کا اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھنا، حق کو قبول کر لینا، اور
اللہ و مخلوق کے سامنے عاجزی اختیار کرنا ۔
امام
غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:نفس کو کمتر اور حقیر جاننے کے خیال کو تو اضع کہتے ہیں کہ اس سے عاجزی و انکساری پیدا ہوتی
ہے ۔ (منہاج العابدین: صفحہ نمبر 176 ۔ مکتبۃ المدینہ)
انسان کے
مادے میں ہمیشہ دو چیزیں پائی جاتی ہیں:اول :عاجزی و انکساری ۔ دوم: تکبر و بڑھائی
اگر انسان
رحمٰن عزوجل کی مان کر تواضع و انکساری
کرے گا تو جنت کا مصداق بنے گا ۔ وگرنہ شیطان لعین کی مان کر تکبر میں پڑ کر
کہی عذاب نار کا مستحق نہ ہو جائے ۔ (العیاذ
باللہ)
حضور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ جس کہ دل میں
ذرہ برابر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں نہ جائےگا ۔ (صحیح
مسلم ،کتاب ایمان کا بیان ،باب :تکبر کے حرام ہونے کا بیان ،حدیث نمبر 91)
اور اس
تواضع و انکساری جیسی اعلیٰ صفت کو رب تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر ذکر
فرمایا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
اللہ کے
بندے زمین پر نرمی کے ساتھ چلتے ہیں :وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: اور رحمٰن
کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں
’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ نمبر 19 سورۃ الفرقان،آیت نمبر 63)
اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ
لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتےکھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
تکبر سے پرہیز کرو:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان :اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (لقمان ،18)
اس سے
معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے
ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار
کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات
ہیں ،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے ۔
اکڑ کر
چلنے کی مذمت:اس آیت میں اکڑ کر چلنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے،اسی
مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر
مشتمل دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :
(1)
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اقدس ص
ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی اپنے آپ کو
بڑا سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ
اس پر ناراض ہو گا ۔ ( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ
عنہما، ۲ / ۴۶۱، الحدیث: ۶۰۰۲)
(2)
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اکرم ص
ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب میری امت اکڑ کر
چلنے لگے گی اور ایران و روم کے بادشاہوں کے بیٹے ان کی خدمت کرنے لگیں گے
تو اس وقت شریر لوگ اچھے لوگوں پر
مُسَلَّط کر دئیے جائیں گے ۔ ( ترمذی،
کتاب الفتن، باب-۷۴، ۴ / ۱۱۵، الحدیث: ۲۲۶۸)
اللہ تعالیٰ
سب مسلمانوں کواس مذموم فعل سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے،اٰمین ۔
مسلمانوں
کے ساتھ نرمی اختیار کرو:لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا
مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ: کنز الایمان: اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو
نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو
برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے
لو ۔ (پارہ نمبر 14 سورۃالحجر،آیت نمبر 88)
اس آ یت کریمہ
کہ اس حصے وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ میں اللہ رب العالمین آپ ﷺ کے ذریعہ سے امت کو یہ سیکھا رہا ہے کہ مسلمانوں کے لیے آپنے
ہاتھوں کو پھیلاؤ اگر تم ان سے بڑے ہو تو
نرمی سے پیش آؤ اگر تم حکمران ہو تو عدل
سے پیش آؤ کہ تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہے (صحیح مسلم ،کتاب :حسن سلوک و صلح
رحمی ،حدیث نمبر 2586 )
Dawateislami