عبدالرحمن عطّاری مدنی (تخصص فی اللغۃ العربیۃ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،
پاکستان)
تواضح"خوش اخلاقی سے پیش آنے
"کا نام ہے ۔ (فیروز اللغات،ت و،ص:387)یعنی نرمی اختیار کرنا،
دوسروں کو حقیر نہ جاننا، اپنی ذات کو بڑائی سے پاک رکھنا، اور ہر حال میں حقیقت
پسند رہنا ۔ انسان کی کامیابی صرف علم اور طاقت میں نہیں، بلکہ اس کردار میں ہے جو
اسے دوسروں کے لیے سہارا بناتاہے ۔ خوبصورت اخلاق انسان کو وہ مقام عطا کرتے ہیں جو مال و دولت نہیں دے سکتے
۔ آج کے خود غرض ماحول میں وہی دل روشن
ہوتا ہے جو تکبر سے پاک ہو اور تواضع یعنی عاجزی سے آراستہ ہو ۔ قرآن کریم نے بارہا بتایا کہ اللہ کا قرب انہی
کو ملتا ہے جو جھکنا جانتے ہیں، اکڑنا نہیں ۔ لہٰذا اعلیٰ انسانیت کے لیے تواضع ایک بنیادی وصف ہے ۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر وضاحت کے
ساتھ دیکھتے ہیں:
تواضع کا
عملی معیار: حق قبول کرنا:فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ
لَهُمْۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ
الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪-
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ
شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ-فَاِذَا عَزَمْتَ
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ
الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹)
ترجمہ کنزالایمان:تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے
لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان
ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو
اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو
پیارے ہیں ۔ (سورۃ آل عمران: 159)
معلوم ہوا
کہ نرم طبیعت انسان کے لیے اللہ کی خاص رحمت ہے ۔ جو شخص ہر حال میں اپنے لہجے اور
فیصلوں میں نرمی رکھے، وہی اللہ کا مقرب بندہ بنتا ہے ۔
بندگانِ رحمان کی پہچان : نرمی اور انکساری:ارشاد باری
تعالیٰ ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًاترجمہ کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان: 63)
بندگانِ خدا کی پہلی علامت : ان کی چال میں بھی
تکبر نہیں ہوتا ۔ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ حدیث
پاک میں ہے کہ: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔
(حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین
العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)
تکبر اللہ
کو ناپسند ہے، عاجزی محبوب:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ
مَكْرُوْهًا(۳۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں ۔ (سورۃ
بنی اسرائیل: 37،38)
تفسیر
جلالین میں ہے کہ یعنی تکبر و خود نمائی
سے نہ چل ۔ (جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳)
قرآن واضح
طور پر غرور سے منع کرتا ہے ۔ اکڑ کر چلنا صرف چال تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ
انداز جس میں انسان خود کو بڑا اور دوسروں کو چھوٹا سمجھے ۔
نیکی کا
حسن: بے تکلف رویہ:وَ اخْفِضْ
جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنزالعرفان: اور مسلمانوں کیلئے
اپنے بازو بچھا دو ۔ (سورۃ حجر:88)
یعنی نرم،
پیار بھرا اور عاجزانہ رویہ اختیار کرنا ۔ یہ آیت نبیِ کریم ﷺ کو خطاب ہے مگر اس میں
امت کے لیے بھی تعلیم ہے کہ عزت بڑھے تو رویہ مزید نرم ہو ۔ اس لیے اپنے ماتحت،
شاگرد یا کمزور افراد کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں کہ وہ آپ کے قریب آکر سکون محسوس کریں
بڑائی اللہ کے لیے، عاجزی انسان کے لیے:
اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنزالعرفان:بےشک وہ مغروروں کو
پسند نہیں فرماتا ۔ (سورۃ النحل: 23)
یہ قرآن کی
صریح ہدایت ہے ۔ جس دل میں تکبر ہو، اس میں
خیر کم ہوتا جاتا ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا ’’تکبر حق بات کو جھٹلانے اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے ۔ (مسلم،کتاب الایمان، باب تحریم الکبر
وبیانہ، ص۶۰، الحدیث: ۱۴۷(۹۱)
تواضع وہ
صفت ہے جو انسان کو لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتی ہے اور اللہ کے قریب کر دیتی ہے
۔ قرآن کریم نے اسے بندگانِ رحمان کا بنیادی
وصف قرار دیا ۔ جو انسان خود کو بڑا
سمجھتا ہے، وہ دراصل اللہ کی ناراضی کو دعوت دیتا ہے، اور جو جھک کر زندگی گزارے
وہ اللہ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے ۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنی گفتگو، چال ڈھال، رویے،
فیصلوں، اور تعلقات میں تواضع پیدا کریں کیونکہ عاجزی وہ وصف ہے جس سے انسان کی دنیا
بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی روشن ہوتی ہے ۔
Dawateislami