اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو اوصاف و خصائل پسند فرمائے ہیں، ان میں سے ایک نہایت عظیم اور دلوں کو منور کرنے والی صفت تواضع ہے ۔  جب انسان کے اندر عاجزی پیدا ہو جاتی ہے تو اس کے معاملات سنور جاتے ہیں، اس کی گفتگو میں نرمی آ جاتی ہے، رویّوں میں محبت اور دل میں سکون اتر آتا ہے ۔ عاجزی ایسا نورانی وصف ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور لوگوں کی نظروں میں محبوب بنا دیتا ہے ۔

تواضع (عاجزی) کی تعریف:لوگوں کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا، اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کے بجائے خود کو کمزور و محتاجِ خدا ماننا تواضع کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانے والے اعمال، ص 81)

1 ۔ مؤمن کی شان: آہستگی، وقار اور نرمی:اللہ پاک فرماتا ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ 19، سورۃ الفرقان 63)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی ایک علامت یہ بیان کی کہ وہ زمین پر اکڑ کر، شور مچاتے یا غرور کے انداز میں نہیں چلتے، بلکہ ان کا طرزِ عمل سکون، وقار اور عاجزی سے بھرپور ہوتا ہے ۔ (صراط الجنان، ج7، ص49)

2 ۔ حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی نصیحت:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (پارہ 21، سورۃ لقمان 18)

اس آیت مبارکہ میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کو یہ باطنی تربیت دے رہے ہیں کہ گفتگو میں تکبر کا انداز نہ اپنایا جائے، کسی کو حقیر نہ سمجھا جائے اور چلنے کے انداز میں بھی غرور داخل نہ ہونے پائے ۔ (صراط الجنان، ج7، ص496)

3 ۔ نبی کریم ﷺ کی تواضع:وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنز العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (پارہ 14، سورۃ الحجر 88)

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو حکم دیا کہ آپ مومنین کے لیے انتہائی شفقت اور تواضع کے ساتھ پیش آئیں، بالکل ایسے جیسے پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پر بچھا کر انہیں آسرا دیتا ہے ۔ یہ آیت نبی ﷺ کی عاجزی اور امت کے لیے محبت کا عظیم درس ہے ۔ (صراط الجنان، ج5، ص266)

تواضع کے فوائد اور اس کی ضرورت:ان آیات کریمہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان کے لیے تواضع صرف اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کی علامت ہے ۔ جو دل عاجزی سے خالی ہو، وہ تکبر، غرور اور ریا جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اور جو دل تواضع سے بھر جائے، اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے ۔ کیوں ضروری ہے کہ ہم عاجزی اختیار کریں؟کیونکہ اللہ کے نزدیک محبوب وہی ہے جو جھکتا ہے ۔ غرور انسان کو ہلاک کر دیتا ہے، جبکہ عاجزی دل کو پاک کرتی ہے ۔ عاجزی اختیار کرنے سے انسان کے اندر اخلاص، تحمل، اور برداشت بڑھتی ہے ۔ معاشرے میں محبت اور احترام کا ماحول قائم ہوتا ہے ۔

تواضع پیدا کیسے ہو؟

· قرآن پاک کا تدبر کے ساتھ مطالعہ ۔

· احادیثِ مبارکہ اور سیرتِ مصطفی ﷺ کے واقعات پڑھنا ۔

· غرور کے نقصانات اور عاجزی کے فضائل پر غور کرنا ۔

· اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ہمیشہ محتاج سمجھنا ۔

· ان شاء اللہ، یہ چیزیں ہمارے دلوں میں تواضع کی خوشبو بکھیر دیں گی ۔