تواضع کا
مطلب ہے: عاجزی اور انکساری ۔ لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبہ کے
اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور
چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانےوالے اعمال کی
معلومات،صفحہ۸۱)
تواضع کے عمل سے انسان کے اندر موجود تکبرو غرور
کی سرکشی اور باغی صفت دم توڑتی ہے ۔ تواضع انسان کی معاشرتی زندگی میں ایک لطافت پیدا کرتی ہے اور انسان کو
خاکسار بناتی ہے اور اپنی چال ڈھال میں عاجزی کو فروغ دیتی اور انسان دوسروں کو
قابل احترام و اکرام جانتا ہے ۔ آئیے اب
ہم تواضع کا بیان قرآن مجید فرقان حمیدسے ملاحظہ کرتے ہیں:
(1) اتراتے ہوئے نہ چلنا: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ
مَكْرُوْهًا(۳۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں ۔ ( پ 15بنی اسرائیل 17، آیات 37،38 )
(2) اچھا انجام پرہیز گاروں کے لیے : تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز العرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے
بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے
ہے ۔ (پ20 ، القصص 28 ، آیت 83 )
(4) آہستہ
چلنا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ ( پ19 ، الفرقان 25 ، آیت 63)
(5) حسن اخلاق سے پیش آنا :وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ
الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵)ترجمہ کنز العرفان: اور اپنے پیروکار مسلمانوں کے لیے اپنی رحمت
کابازو بچھاؤ ۔ ( پ 19 ، الشعراء 26 ،
آیت 215)
عاجزی کا ذہن بنانے اور اپنانے کے چند طریقے:
(1) عاجزی کے فضائل کا مطالعہ کیجئے ۔
(2) عاجزی سے متعلق بزرگانِ دِین کے فرامین کا
مطالعہ کیجئے ۔
(3) عاجزی نہ کرنے کے نقصانات پر غور کیجئے ۔
(4) تکبر کے اَسباب وعلاج کی معرفت حاصل کیجئے ۔
(5) تکبر کی علامات سے خود کو بچائیے ۔
اللہ تعالیٰ
عاجزی اختیار کرنے والوں کو پسند اور بلند
مقام عطا کرتا ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عاجزی کی دولت
سے سرفراز فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami