محمد
شہریار ظفر (درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ امام اعظم گوجرخان
، پاکستان)
اسلام میں
تواضع مومن کیلئے ایک ضروری صفت ہے ۔ قرآن
کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تکبر سے بچنے اور تواضع اختیار
کرنے کا حکم دیا ہے ۔ تواضع کا معنی ہے کہ عاجزی و انکساری ہے اور اس سے مراد ہے
کہ، لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام
ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر
وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانےوالے اعمال کی معلومات،صفحہ۸۱)
قرآن پاک میں
تواضع(عاجزی) کا بیان:
1:عاجزی
کرنے والوں اور عاجزی کرنے والیوں کیلیے اللہ پاک نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر
رکھا ہے ۔ چنانچہ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ:اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ
الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ
وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ
وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمۂ کنز العرفان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان
عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور
فرمانبردار عورتیں اور سچے مرداور سچی عورتیں اور صبرکرنے والے اور صبر کرنے والیاں
اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں
اور روزے رکھنے والے اورروزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے
اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب
کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ22، الاحزاب، آیت 35)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ عاجزی کرنے والوں اور عاجزی کرنے والیوں کیلیے اللہ پاک نے بخشش
اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔
2: تکبر سے منع، عاجزی کا حکم:چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ترجمۂ کنز العرفان:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ
چل ۔ (پ15، بنی اسرائیل، آیت 37)
صراط
الجنان میں ہے کہ:یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب
ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار کے
ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند
ہے ۔
3:عزت عاجزی
میں ہے، تکبر میں نہیں:چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے کہ:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنز
العرفان:یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد
نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ (پ 28، القصص، آیت 83)
صراط
الجنان میں ہے کہ:اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام
ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم
نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و
شان والی نعمت پا سکتا ہے ۔
4: رب
العالمین کی طرف سے حضور ﷺ کو بھی مسلمانوں کے ساتھ عاجزی کا حکم:چنانچہ اللہ
پاک کا ارشاد ہے کہ:وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمۂ کنز العرفان: اور مسلمانوں کیلئے اپنے
بازو بچھا دو ۔ (پ 15، الحجر، آیت 88)
صراط
الجنان میں ہے کہ:یعنی ا ے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ
مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان
کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح
رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔
5: رحمٰن
عزوجل کے بندوں کی خصوصیات:چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمۂ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ
چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پ 25،
الفرقان، آیت 63)
صراط
الجنان میں ہے کہ:کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ
لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
قرآن کے
مطابق عاجزی مومن کیلئے ایک اچھا وصف ہے ۔ انسان کو اللہ کا مقرب بناتی ہے ۔ جنت
تک پہنچاتی ہے ۔ دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے ۔ تکبر سے بچاتی ہے جو شیطان کی صفت
ہے ۔ دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں بھی بلندی کا ذریعہ ہے ۔ پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں
چاہئے کہ ہم اپنی زندگی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کے مطابق عاجزی و اِنکساری پیدا
کریں اور تکبّر کی نَحُوست سے دُور رہیں ۔
تُو چھوڑ
دے تکبر ہو بھائی میرے عاجز چھائی ہے اس پہ رحمت کرتا ہے جو تواضُع ۔
اللہ پاک
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami