فیصل
نوید (درجہ ثالثہ جامعۃالمدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
قرآنِ کریم
ا س ربِّ عظیم عَزَّوَجَلَّ کا بے مثل کلام ہے جو اکیلا معبود، تنہا خالق اور ساری
کائنات کا حقیقی مالک ہے، وہی تمام جہانوں کو پالنے والا اور پوری کائنات کے نظام
کو مربوط ترین انداز میں چلانے والا ہے، دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حقیقی طور پر
اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ جسے جو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے جس چیز سے
چاہے محروم کر دیتا ہے ،وہ جسے چاہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلت و رسوائی دیتا ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت دیتا اور جسے چاہے گمراہ کر دیتا ہے اور اس نے اپنا یہ
کلام رسولوں کے سردار، دو عالم کے تاجدار، حبیب ِبے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے آپ صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور دینِ
حق کی پیروی کرنے کی طرف بلائیں اور شرک و کفر و نافرمانی کے انجام سے ڈرائیں،
لوگوں کو کفرو شرک اور گناہوں کے تاریک راستوں سے نکال کر ایمان اور اسلام کے روشن
اور مستقیم راستے کی طرف ہدایت دیں اور ان کے لئے دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی
کی راہیں آسان فرمائیں ۔ اسی کے ساتھ اللّہ تبارک وتعالٰی نے اپنے کلام پاک میں
ہمیں تواضع (عاجزی ) کا علم بھی عطا کیا ۔
تو آئیں آج ہم تواضع ( عاجزی ) کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
1، مشرکین
کی نافرمانی اور اس کا صلح : وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا
كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اس دن اللہ کی طرف
عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (نحل :87)
2، والدین
سے رحم دلی :وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ
الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ
کنز الایمان : اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے
رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (قصص،24)
وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا
کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین
کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ
اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا
برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری
کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔ گویا زبانی کے ساتھ ساتھ عملی طور پربھی ان سے اچھا برتاؤ کرو اوریونہی
مالی طور پر بھی ان سے اچھا سلوک کرو کہ ان پر خرچ کرنے میں تأمُّل نہ کرو ۔ ( پارہ 15 ، سورۂ بنی اسرائیل ، آیت : 24 ،
تفسیر صراط الجنان ، مطبوعہ : مکتبۃالمدینہ )
3، جب صور
پھونکا جائے گا :وَ یَوْمَ یُنْفَخُ
فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ
شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان : اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے
جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور
حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔
(نمل،87)
وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب
اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی
قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ
کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔ (
پارہ 20 ، سورۂ النمل ، آیت : 87 ، تفسیر صراط الجنان ، مطبوعہ : مکتبۃالمدینہ )
4، عاجزی
کرنے والوں کو بخشش کی بشارت : اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ
وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ
الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمۂ کنز
الایمان : بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور
فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور
عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں
اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے
والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے
بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (الاحزاب35)
اس آیت کریمہ
کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام ،ایمان اورطاعت میں ،قول اور فعل کے سچا ہونے میں ،صبر، عاجزی و
انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں ،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت
کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا
ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں ،توایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے
طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔
Dawateislami