اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو ظاہری اور باطنی ہر پہلو سے سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے ۔  قرآن کریم میں بارہا ایسے اخلاقِ حسنہ کا ذکر ملتا ہے جن سے ایک مؤمن کی شخصیت نکھرتی ہے ۔ انہی صفاتِ حمیدہ میں سے ایک عظیم صفت "تواضع" یعنی انکساری ہے ۔ تواضع نہ صرف اخلاقی بلندی کی علامت ہے بلکہ یہ انسان کو تکبر، غرور، اور خود پسندی جیسے روحانی امراض سے بچاتی ہے ۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر اہلِ ایمان کو تواضع اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے، اور انبیاء علیہم السلام کی حیاتِ مبارکہ میں اس صفت کو عملی طور پر نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے ۔ تواضع انسان کے دل کو پاکیزگی، عمل کو اخلاص، اور تعلقات کو محبت عطا کرتی ہے ۔ یہی وہ خُلق ہے جس کے باعث ایک انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند مقام حاصل کرتا ہے، چاہے دنیاوی حیثیت میں وہ عام انسان ہو ۔ یہ تمہید اس بات کا آغاز ہے کہ ہم قرآنی آیات کی روشنی میں تواضع کے مفہوم، اہمیت اور عملی نمونوں کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (الفرقان آیت نمبر 63)

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص آیت نمبر 83)

تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔

(بنی اسرائیل37،38)

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩(۱۵)

ترجمۂ کنز الایمان:ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ اُنہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ۔

(السجدہ آیت نمبر 15)

تواضع ایک ایسا عظیم وصف ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور بندوں میں محبوب بناتا ہے ۔ قرآن کریم نے تواضع اختیار کرنے والوں کے لیے بشارتیں سنائی ہیں اور انہیں بلند درجات کا وعدہ دیا ہے ۔ یہی صفت انبیاءِ کرام، صحابہ کرام اور اولیائے صالحین کی زندگیوں کا خاصہ رہی ہے ۔ تواضع انسان کے اخلاق کو نرمی، عاجزی اور محبت سے بھر دیتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دل سے تکبر نکال کر عاجزی کو اپنائیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی شخصیت سنواریں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی تواضع اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔