قرآن کریم اللہ پاک کا کلام اور رشد و ہدایت کا عظیم سرچشمہ ہے جو ہر شے کا واضح بیان ہے قرآن پاک نے جس طرح حلال و حرام کے احکام گزشتوں امتوں کے واقعات کو بیان فرمایا اسی طرح نیک لوگوں کے وہ عمدہ اخلاق اور اچھے اعمال و عادات بھی بیان فرمائی جن کے ذریعے وہ بندہ اپنے رب کا قرب اور دنیاوی و اُخروی  ترقی پر گامزن ہو جاتا ہے انہی میں سے ایک نیک عمل تواضع (عاجزی) بھی ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیوں ایک مسلمان کے لیے نیک اعمال کی بجا آوری بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ نیک اعمال رضا الٰہی حاصل کرنے ،رحمت الہی پانے نجات دلانے اور جنت میں لے جانے کا بڑا سبب ہیں آئیے ہم بھی تواضع و انکساری کا قرآنی بیان پڑھتے اور علم و عمل کے نیت کرتے ہیں ۔

تواضع کی تعریف: لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام و مرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کمتر اور چھوٹا خیال کرنا تواضع یعنی عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (لباب الاحیاء صفحہ238)قرآن پاک کے متعدد مقامات پر تواضع و عاجزی کا بیان ملتا ہے آئیے ہم بھی پڑھتے ہیں :

1: انبیاء کرام کی سنت : اللہ پاک کو رغبت و ڈر سے پکارنا اور تواضع و عاجزی اختیار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت مبارکہ ہے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰)ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں ۔ (پ 17 الانبیاء 90)

2:کامل مومن: کامل ایمان والے لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے جیسے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہیں : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔

ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (پ 19 الفرقان 63)

3: بشارت الٰہی: رضائے الہی کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ پاک کی طرف سے خاص بشارت ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز العرفان: اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (پ 17الحج 34)

4: بخشش کا ذریعہ : عاجزی و انکساری ایسے عظیم اوصاف ہیں جو بخشش اور بڑے ثواب کے حصول کا ذریعہ ہیں جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمہ کنز العرفان: اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 احزاب 35)

5: جنت میں داخلہ : تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔ تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز العرفان : یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (پ 20 القصص 83)

پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھیے! تواضع انبیاء کرام علیہم السلام کی مبارک سنت ہی نہیں صحابہ کرام علیہم الرضوان اور دیگر بزرگان دین رحمہم اللہ کا مبارک طریقہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے انہیں عظمتوں اور رفعتوں سے سرفراز فرمایا مگر انہوں نے کبھی اس پر فخر نہ کیا بلکہ ہمیشہ تواضع و انکساری کا مظاہرہ فرمایا کیونکہ انہیں بخوبی علم تھا کہ جو اللہ پاک کے لیے عاجزی اختیار کرے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرماتا اور عزتوں سے نوازتا ہے اور جو تکبر کرے اسے رسوا کر دیتا ہے لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ تکبر سے بچتے ہوئے اللہ پاک کی رضا کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کریں ۔ اللہ پاک ہمیں عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔