محمد
سانول عطاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ
فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اللہ تبارک
و تعالی نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا ہے اور اس کی انتہا بھی مٹی ہے تو انسان
کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی تواضع اور انکساری کے ساتھ جیے ۔ عاجزی کرنے والے اللہ اور اس کے رسولﷺکو پسند ہیں ۔
ابراہیم بن
الاشعث فرماتے ہیں:میں نے فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ سے تواضع کے بارے میں پوچھا؟آپ
نے فرمایا: تواضع یہ ہے کہ تو حق کے لیے جھک جائے اور اس کے آگے سرخم تسلیم کر دے الخ ۔
(التواضع و
الخمول ،موسوعۃ ابن ابی دنیا ،جلد 3،ص554،مطبوعہ مکتبۃ العربیہ )
اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں کئی مقامات
پر تواضع والوں کی شان بیان فرمائی ہے ۔
1،اللہ پاک
نے تواضع والوں کو اپنے حبیب ﷺ کے ذریعے خوشخبری سنائی ۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے: -وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو
۔ (پارہ 17،سورة الحج ،آیت نمبر 34،)
یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی
سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے،چنانچہ اللہ پاک
کا فرمان ہے : وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور زمین میں اتراتا نہ چل ۔ (پارہ 15 سورة بنی اسرائیل ،آیت 37 )
یہ آیت
تمام خوبیوں کی جامع ہے ۔ کہ پرہیزگار تواضع پسند ہوتا ہے اور جو تواضع پسند ہو وہ اللہ کہ ہاں عزت ومرتبت والا
ہوتا ہے :
Dawateislami