اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا ہے اور اس کی انتہا بھی مٹی ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی تواضع اور انکساری کے ساتھ جیے  ۔ عاجزی کرنے والے اللہ اور اس کے رسولﷺکو پسند ہیں ۔

ابراہیم بن الاشعث فرماتے ہیں:میں نے فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ سے تواضع کے بارے میں پوچھا؟آپ نے فرمایا: تواضع یہ ہے کہ تو حق کے لیے جھک جائے اور اس کے آگے سرخم تسلیم کر دے الخ ۔

(التواضع و الخمول ،موسوعۃ ابن ابی دنیا ،جلد 3،ص554،مطبوعہ مکتبۃ العربیہ )

اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر تواضع والوں کی شان بیان فرمائی ہے ۔

1،اللہ پاک نے تواضع والوں کو اپنے حبیب ﷺ کے ذریعے خوشخبری سنائی ۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے: -وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پارہ 17،سورة الحج ،آیت نمبر 34،)

یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے،چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے : وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور زمین میں اتراتا نہ چل ۔ (پارہ 15 سورة بنی اسرائیل ،آیت 37 )

یہ آیت تمام خوبیوں کی جامع ہے ۔ کہ پرہیزگار تواضع پسند ہوتا ہے اور جو تواضع پسند ہو وہ اللہ کہ ہاں عزت ومرتبت والا ہوتا ہے :

اللہ پاک ہمیں اپنا تواضع پسند بندہ بنائے اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ