محمد
منعام العطارى ( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدينہ فيضان مدينہ كراچی ، پاکستان)
بادشاہ
اپنی رعایہ سے عاجزی و انکساری پسند کرتا ہے ،مگر حقیقی مالک،مالِکِ حقیقی
"اللہ جلّ شانُہ" ہے،وہ تمام مخلوق کا خالق ہے اور اللہ پاک عاجزی کرنے
والوں کوپسند فرماتا ہے اور زبان حق،محبوب رب
ﷺ کے ذریعے عاجزی کرنے والوں کے لیے
بِشارت عظمیٰ کا اعلان فرماتا ہے،جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن پاک میں کیا ہے:
اور اے حبیب!
ص ﷺ ،آپ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا
دیں ۔ ( خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۳۰۹، مدارک،
الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۷۳۹، ملتقطاً)
(2) الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: ترجمہ کنز العرفان:جو
زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)
اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ
لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی
ہے:
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)
عاجزی کے دینی فوائد:
(1)اللہ
عزوجل نے عاجزی کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر وثواب رکھا ہے چنانچہ اللہ
پاک سورۃ الاحزاب کی آیت 35 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ
الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ
فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ
الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) ترجمۂ
قرآن کنزالایمان (اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں
اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے
والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے
بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (الاحزاب،35)
(2)عاجزی
کرنے والوں کے لیے بشارت و خوشخبری ہے اللہ پاک سورۃ الحج کی آیت 34 میں ارشاد
فرماتا ہے: -وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان :اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری
سنا دو ۔
(3) عاجزی
کرنا گویا نفس امارہ کے خلاف کھڑے ہونا،مجاہدے کے لیے تیاری کرنا اور اس کو
پچھاڑنے کی کوشش کرنا ہے ۔ کیونکہ نفس امارہ برائی کا حکم دیتا ہے اللہ پاک قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے : اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءترجمہ کنز
الایمان :نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ۔ (سورۂ یوسف آیت 53)
عاجزی کے دنیاوی فوائد:
(1)
متواضِع یعنی عاجزی کرنے والا شخص لوگوں کے دل میں جلد گھر کرلیتا ہے کیونکہ لوگ
متکبر اور اپنی بڑائی چاہنے والے شخص کو نہیں پسند کرتے ہیں ۔
(2)عاجزی
کرنے والوں سے لوگ بات کرنا ،اُس سے ملنا اور اس کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں ۔
(3)عاجزی
کرنے سے کئی دینی اور دنیاوی کاموں میں مدد و معاونت ملتی ہے ۔ لوگ اس کی مدد خوشی
سے کرتے ہیں ۔
عاجزی اختیار نہ کرنے کے نقصانات:
(1)جواللہ
کے حضور عاجزی اختیار نہیں کریگا تو وہ عذاب میں گرفتار کرلیا جاۓ گا ۔
اللہ پاک سورۃ المؤمنون کی آیت 76 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ
مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)
ترجمہ کنز الایمان : اور بےشک ہم نے انہیں عذاب میں
پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے
اور نہ گِڑگِڑاتے ہیں ۔
(2)آج جو
اللہ کے حضور عاجزی اختیار کرنے سے بھاگے گا کل قیامت کے دن وہ خود اللہ کے حضور عاجزی سے گرا ہوگا لیکن اس وقت اس کی یہ
عاجزی قبول نہ کی جائے گی جیسا کہ قرآن پاک میں مشرکین کے حوالے سے آیا ہے: وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ
وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)
ترجمہ کنزالایمان: اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (نحل،87)
(3)اگر کوئی
بندہ عاجزی نہیں کرتا تو وہ کبر یعنی تکبر کی دلدل میں جا گرتا ہے، تکبر کے اختیار کرنے کو پسند کرتا ہے اور حدیث
میں ارشاد فرمایا :جس کے دل میں رائی کے
دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔ قرآن کریم میں عاجزی کو
مومن کی پہچان قرار دیا گیا ہے ۔ جو بندہ اپنے
رب کے سامنے جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ تکبر انسان کو ہلاک کر دیتا ہے جبکہ تواضع
انسان کو اللہ کا محبوب بناتی ہے ۔
Dawateislami