تواضع انسان کی وہ عظیم صفت ہے جو اسے غرور،تکبر اور خود پسندی سے بچاتی ہے یہ اخلاق وحسن کی بنیاد اور ایمان کی علامت ہے قرآن مجید نے جگہ جگہ عاجزی وانکساری کو پسندیدہ اور تکبر  کو نا پسندیدہ قرار دیا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی بندہ محبوب ہی جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہیں سمجھتا اور اپنے رب کے حضور جھکنے میں فخر محسوس کرتا ہے ۔

تواضع کی حقیقت:لفظ "تواضع"عربی مادہ "وضع"سے ماخوذ ہے جس کے معنی نیچے جھکنے کے ہیں اصطلاحاً تواضع سے مراد انسان کا اپنی حقیقت پہچاننا،دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا،نرم مزاجی اور عاجزی سے پیش آنا ۔ یہ خوبی انسان کے باطن کی پاکیزگی کی علامت ہے،کیونکہ کہ جو دل غرور سے خالی ہوتا ہے وہی دل حقیقی ایمان کا گھر بن سکتا ہے ۔

قرآن مجید میں تواضع کی تعلیم:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تواضع کو مومن کی نمایاں صفت قرار دیا ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ بنی اسرائیل پارہ 15)

وضاحت:یہ آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ کتنا کمزور اور محتاج ہے لہذا تکبر اس کی شایان شان نہیں ۔

اسی طرح قرآن مجید میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃ الفرقان، پارہ 19)

انبیاء کرام کی تواضع:حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے سے زیادہ علم والے بندے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس علم حاصل کرنے گئے حالانکہ وہ خود اللہ پاک کے برگزیدہ نبی ہے ۔

حضرت سلیمان علیہ السلام جنہیں بادشاہت اور اقتدار دیا گیا وہ فرماتے ہے: قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُترجمہ کنزالایمان:کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ۔ (آیت 40 سورۃ النمل پارہ 19)

اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تواضع تو بے مثال ہیں :آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کبھی کسی سے گفتگو میں تکبر نہیں کرتے تھے ،غریبوں کے ساتھ بیٹھتے بچوں کو سلام کرتے اور غلاموں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے ۔

تواضع وہ صفت ہے جو انسان کو خالق اور مخلوق دونوں کے قریب کر دیتی ہے ۔ تکبر انسان کو ذلیل کر دیتا ہے جبکہ عاجزی عزت عطا کرتی ہے قرآن مجید کی تعلیمات بھی ہمیں یہی پیغام دیتی ہیں کہ حقیقی بلندی جھکنے میں ہی ہے نہ کہ غرور میں ۔ جو شخص آپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت میں سرخرو کر دیتا ہے ۔