محمد جمیل عطاری ( درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادہوکی لاہور ، پاکستان)
تواضع (عاجزی) کی تعریف:تواضع کا مطلب ہے اپنے
آپ کو بڑا نہ سمجھنا، دوسروں کے ساتھ نرمی، انکساری اور ادب سے پیش آنا، خواہ کوئی
مال و علم یا مرتبے میں کم ہو ۔ اسلام میں تواضع ایک اعلیٰ اخلاقی خوبی ہے، جو
تکبر کے بالکل برعکس ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور
اس کے رسول ﷺ نے تواضع اختیار کرنے کی تاکید کی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ
جیسا عظیم مرتبہ رکھنے والا، اگر عام عورت کے ساتھ بھی زمین پر بیٹھ کر بات کرتا
ہے تو یہ عاجزی کی بلند ترین مثال ہے ۔ تواضع انسان کو اللہ کے قریب، لوگوں میں
محبوب، اور اخلاقی طور پر بلند مقام پر پہنچاتی ہے ۔ یہ انبیاء، صحابہ، اور اولیاء کی سنت ہے ۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں تکبر چھوڑ کر عاجزی
اختیار کرنی چاہیے ۔
(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( سورۃ
الفرقان ،آیت 63)
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔
(2) وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵) ترجمہ کنز
الایمان: اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو (تابع)مسلمانوں کے لیے ۔ ( سورۃ الشعراء ، آیت 215 )
(3) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (سورۃ لقمان ، آیت 18 )
اکڑ کر
چلنے کی مذمت: آیت میں اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا گیا ،اس مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر مشتمل حدیث ملاحظہ ہوں
:
(1) حضرت
عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی اپنے آپ کو بڑا
سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر
ناراض ہو گا ۔ ( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، 2 / 461، الحدیث: 6002)
(4) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک
تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ الاسراء ،آیت 37 )
یہ آیات
تواضع کی اہمیت اور تکبر کی مذمت کو واضح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے بچتے
ہوئے عاجزی اختیار کر نے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
Dawateislami