زندگی کا اصل حسن دولت، شہرت یا اقتدار میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں چھپا ہے جب انسان اپنی بڑائی بھول کر دوسروں کو مقام دیتا ہے ۔  دلوں پر حکومت وہ نہیں کرتا جو تخت پر بیٹھتا ہے، بلکہ وہ کرتا ہے جو جھک کر دوسروں کے دل جیت لیتا ہے ۔ یہی جھکنا، یہی نرم مزاجی، یہی انکساری دراصل تواضع ہے ۔ ایک ایسی صفت جو انسان کو انسان بناتی ہے، اور بندے کو اپنے رب کے قریب کر دیتی ہے ۔ تواضع وہ آئینہ ہے جس میں بندہ اپنے عیب دیکھتا ہے اور دوسروں کی خوبیوں کو سراہتا ہے ۔ یہ وہ خوشبو ہے جو صرف متکبر دلوں میں نہیں بس سکتی ۔ جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مقام کو بلند کر دیتا ہے ۔

"تواضع" کے معنی عاجزی، انکسار، فروتنی ہیں ۔ اس کے دیگر معنوں میں آؤ بھگت، مہمان نوازی، اور دوسروں کا احترام کرنا شامل ہیں ۔ ایک اور معنی میں حق کے آگے سر تسلیم خم کرنا یا خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنا بھی شامل ہے ۔

قرآن کریم سے تواضع کا بیان:قرآن پاک میں بھی کئی مقامات پر اللہ پاک نے تواضع یعنی(عاجزی و انکساری)کے متعلق بیان فرمایا ہے، آئیے اس کو بھی ملاحظہ کرتے ہیں: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

(1)وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃالفرقان،63)

اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔

( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔

(2)وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔

(بنی اسرائیل،37،38)

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:ترجمہ کنز العرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل: یعنی تکبر و خود نمائی سے نہ چل ۔ ( جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳)

یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے بھی ہمیں بتاتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی جھلک نظر آنی چاہیے ۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی طریقے اپنانے میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔ آیت میں فرمایا گیا کہ زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہٰذا اترانا چھوڑو اور عاجزی و انکساری قبول کرو ۔

حدیث مبارک میں بھی تواضع اختیار کرنے اور تکبر و غرور سے بچنے کا حکم موجود ہے چنانچہ،

(1)حضرت عیاض بن حِمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ رسالت ﷺ َ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری طرف یہ وحی فرمائی ہے کہ تم لوگ عاجزی اختیار کرو اورتم میں سے کوئی دوسرے پر فخر نہ کرے ۔

( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع، ۴ / ۴۵۹، الحدیث: ۴۱۷۹)

اس مضمون کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے، اور غرور و تکبر سے دُور رہنا چاہیے، کیونکہ اسی میں خداوندِ کریم کی رضا اور دونوں جہانوں میں کامیابی پوشیدہ ہے ۔ ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے، اپنے مسلمان بھائی کو اپنے سے بہتر سمجھنا چاہیے اور خود کو کمتر جاننا چاہیے ۔ یہی طرزِ عمل انسان کو تواضع جیسی لازوال نعمت عطا کرتا ہے اور تکبر جیسی بُری صفت سے نجات دلاتا ہے ۔