تواضع ایک
ایسا وصف ہے جو ہر نبی ہر ولی کی شان رہا ہے اور انسان کو اللہ کے نزدیک محبوب
بناتا ہے، لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتا ہے، اور انسان کے اخلاق کو نکھارتا ہے
۔ غرور و تکبر انسان کو گرا دیتا ہے، لیکن
تواضع اسے بلند کر دیتا ہے ۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ "زمین میں اکڑ کر مت
چلو"تواضع صرف لباس یا چال ڈھال کا نام نہیں، بلکہ دل کا جھکاؤ، زبان کی نرمی،
دوسروں کی عزت اور اپنی بڑائی کو نہ جتانے کا نام ہے ۔
آج کے اس
دورِ تکبر، دکھاوے اور انا پرستی میں تواضع اپنانا نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ
معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے ۔
اللہ تعالیٰ
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ
عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز
الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور
نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص،83)
تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر
جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم
ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ
: ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی،
القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)
تکبر کرنے
اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے
برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی
عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و
شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ آپنے قول اور فعل سے کسی
طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔
حضرت عیاض
بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی
فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی کرو حتی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۔ ( مسلم ، کتاب
الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث:
۶۴(۲۸۶۵))
وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز
العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو
بچھا دو: یعنی ا ے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ
مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان
کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح
رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔
(صاوی،
الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۱۰۵۱)
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا آپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔
چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)
سکون اور
وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و
اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں بھی اس چیز کی ترغیب دی
گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث ملاحظہ ہوں :
(1)حضرت
عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا)
ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں کوئی نیکی نہیں ہے ۔
( بخاری،
کتاب الحج، باب امر النبی ﷺ بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ۱ / ۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیاء، ذکر
جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)
(3)حضرت
انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو
ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء
الخامس عشر)
تُو چھوڑ
دے تکبر ہو بھائی میرے عاجز چھائی
ہے اس پہ رحمت کرتا ہے جو تواضع
Dawateislami