تواضع عربی زبان میں عاجزی و انکساری کو کہتے ہیں ۔ تواضع کی تعریف یہ ہے
کہ لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ان کے لئے نرمی کا پہلو
اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی و اِنکساری
کہلاتا ہے ۔ عاجزی کی ضد تکبر (یعنی حق کی
مخالفت کرنا اوردوسروں کو حقیر جاننا) ہے ۔
اپنے آپ
کو تکبر سے بچانا اور عاجزی وانکساری اختیار کرنا ہر مسلمان پر لازم ہےاگر عاجزی ایسی
ہو کہ جس میں میانہ روی ہو یعنی اپنے ہم پلہ اور کم مرتبہ لوگوں کے ساتھ برابر کی
عاجزی کرے، نہ تو خود کو ذلت وکمینگی والی جگہ پر پیش کرے، نہ ہی بلندی کی طرف میلان
ہو تو ایسی عاجزی شرعاً محمود، باعث اَجروثواب اور جنت میں لے جانے والا کام ہے
۔ یہ ایک ایسی صالحانہ خصلت ہے جس کے ذریعہ اخوت،الفت و محبت اور عدل و مساوات کے پیغام کو عام کیا جا سکتا ہے،یہی وجہ
ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمن کے بندے کہ زمین پر
آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان:63)
اس کے تحت
تفسیر نسفی میں ہے: یعنی وہ لوگ سکون اور
وقار کے ساتھ عاجزانہ انداز میں زمین پر
چلتے ہیں تکبر اور بڑھائی کی وجہ سے پاوں
زور سے مارتے ہوئے آپنے جوتے نہیں چٹخاتے ۔
اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ اسی طرح
رب ذوالجلال نے اپنے حبیب ﷺ کو تواضع کی
رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنزالایمان: اور
مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے
لو ۔ (الحجر: ۸۸)
یعنی ا ے
حبیب! صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں پر رحمت
اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر اس طرح رحم فرمائیں جس
طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (صاوی،
الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ /۱۰۵۱ )
نبی
اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ،
إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ یعنی مال
سے صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کا معاف کرانا اور معذرت خواہ ہونے
سے اللہ اس کی عزت کو بڑھاتا ہے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے بندے کی تواضع و
انکساری سے اللہ اسے درجہ فضیلت میں بلند کرتا ہے ۔ (مسلم:باب استحباب العفو و
التواضع،رقم الحدیث۶۵۸۶ )
حدیث پاک
سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص خواہ کتنے ہی اعلیٰ مقام و مرتبہ پر ہو تواضع اختیار
کرنے سے اس کے مقام میں کمی نہیں آئے گی بلکہ تواضع و انکساری کی
وجہ سے انسان کا درجہ و فضیلت کو اللہ رب العزت نہ صرف اپنے حضور بڑھاتا ہے بلکہ
لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت و تکریم میں مزید اضافہ کردیتا ہے اسے عاجزی و انکساری
کی بنا پر وہ فضیلت اور بلندی عطا کرتا ہے جس کا وہ پہلے کبھی تصور بھی نہیں
کرسکتا تھا ۔
تواضع اختیار
کرنا سرکار ﷺ کے اخلاق کریمہ کا حصہ ہے چنانچہ حضرت ابو
امامہ بیان کرتے ہیں: خَرَجَ عَلَيْنَا
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا
فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ:لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا
بَعْضًا ترجمہ : رسول اللہ ﷺ عصا مبارک کا سہارا لیے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے تو
ہم سب آپ کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ آپﷺ نے
فرمایا: عجمیوں کی طرح نہ کھڑے ہوا کرو اس لیے وہ یونہی ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں
۔ (سنن ابی
داؤد: ۵/۳۹۸)
منع کرنے کی وجہ یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں تو ایک بندہ ہوں میں اسی طرح کھاتا ہوں جیسے
کوئی عام آدمی کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھتا ہوں جیسے کوئی عام آدمی بیٹھتا ہے ۔
آپ نے
اپنی ذات کے لیے قیام کرنے کے عمل سے اپنی صفت تواضع اور اپنے خلق عاجزی و انکساری
کی بنا پر منع کردیا ۔ حضور اقدس ﷺ کے
اس عمل سے امت کو یہ تعلیم ملتی ہےکہ کوئی بھی داعی ہو، مقرر ہو، معلم و قائد ہو،
راہنما و رہبر ہو اس کی ذاتی خواہش نہ ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، اس کا احترام
بجا لائیں ۔ نیز تواضع تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام اور اولیاء عظام کی
راہ ہے جبکہ تکبر و غرور شیطان،فرعون اور قارون کا ورثہ ہے جیساکہ سورہ مریم میں
اللہ پاک حضرت یحی علیہ السلام کی اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا(۱۴)اور وه متكبر ،نافرمان نہیں تھا ۔ (مریم،14)
بلکہ آپ علیہ
السلام عاجزی وانکساری کرنے والے اوراپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرنے والے تھے
۔
Dawateislami