تواضع دراصل دل کی کیفیت ہے جس کے اثرات انسان کے گفتار، کردار، اور برتاؤ میں نمایاں ہوتے ہیں ۔  قرآن مجید نے متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنی برتری کے احساس سے پاک رہیں، دوسروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں ۔ اللہ پاك ارشاد فرماتاہے:

(1) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)

(2) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)

ان آیت سے معلوم ہوا کہ عاجزی و انکساری اختیار کرنا اور عاجزانہ چال چلنا اللہ پاک کے نیک بندو کا طریقہ ہے جبکہ متکبرانہ طور پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اِتراتے ہوئے چلنا متکبرین کا طریقہ جس سے رب تعالی کی ذات پاک نے منع فرمایا ہے:

(3) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر انسان کے دل میں ایک حجاب بن جاتا ہے جو اسے حق کو دیکھنے، سننے اور قبول کرنے سے روکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ نصیحت سے محروم رہ کر مزید گمراہی میں چلا جاتا ہے ۔

(4) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر اور فساد (بگاڑ) پھیلانا انتہائی ناپسندیدہ اعمال ہیں، جن کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسان جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم ہو جائے ۔ اس کے برعکس، عاجزی، اِنکساری (نرمی اور سادگی) اور معاشرے میں امن و سکون قائم کرنا ایسے شاندار اعمال ہیں جن کی بدولت انسان جنت جیسی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔ لہٰذا، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتار اور عمل سے کبھی بھی غرور کا اظہار نہ کرے، اور نہ ہی گناہوں، ظلم یا زیادتی کے ذریعے معاشرے میں بے چینی اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ خود کو بڑا سمجھنے، غرور کرنے، یا اِترا کر چلنے سے انسان کی حقیقی شان بڑھتی نہیں ہے ۔ مال و دولت، اولاد کی کثرت، یا بڑے قبیلے سے تعلق رکھنے سے عزت، عظمت اور شان و شوکت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ حقیقی عزت اور بلندی صرف وہی پاتا ہے جسے اللہ پاک عطا فرماتا ہے ۔ اور اللہ پاک یہ عزت اور بلندی صرف اُسے دیتا ہے جو عاجزی اور اِنکساری اختیار کرتا ہے جیساکہ نبی کریم علیہ السلام کا فرمان ہے "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ" یعنی"وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر (غرور) ہوگا ۔

لہذا غرور اور فساد سے بچیں، عاجزی اور امن کو اپنائیں، کیونکہ حقیقی عزت اور جنت کا راستہ اسی میں ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔