تواضع (عاجزی، انکساری) اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک ہے ۔  قرآن مجید میں تواضع کو ایک مومن کی اہم ترین صفات میں شمار کیا گیا ہے، اور اس کے برخلاف تکبر کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔ تواضع دراصل بندگی کی علامت ہے، جو انسان کو خالق کے سامنے جھکنے اور مخلوق کے ساتھ نرمی و ادب کے ساتھ پیش آنے پر آمادہ کرتی ہے ۔

تواضع کا مفہوم:تواضع کا لغوی مطلب ہے: اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا، عاجزی اختیار کرنا ۔

اصطلاحاً: دوسروں کے مقابلے میں خود کو کم تر سمجھنا، بغیر تکبر و رعونت کے نرمی، اخلاق اور انکساری سے پیش آنا ۔

اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں  بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں  کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں  زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں  چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)  کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں  اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں  پہاڑوں  کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)

سکون اور وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں  بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا) ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں  کوئی نیکی نہیں  ہے ۔ ( بخاری، کتاب الحج، باب امر النبی  ﷺ  بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ۱ / ۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱)

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں  کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)

(3)حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء الخامس عشر)

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کواس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے جس سے شریعت نے منع کیا اور اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین ۔