اللہ پاک نے انسانوں کو کامیابی اور رہنمائی کے بارے میں قرآن مجید میں بارہا واضح انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔  ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ انسان اپنی زندگی کو کس طرح باوقار اور کامیاب بنا کر گزار سکتا ہے ۔

تواضع کا لغوی و اصطلاحی مفہوم: لغوی معنی: عاجزی اور انکساری اختیار کرنا ۔ اصطلاحی معنی: آپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھنا، عاجزی و انکساری آپنانا اور غرور و تکبر سے بچنا ۔

تواضع اختیار کرنا:تواضع کا تعلق انسان کے ظاہر اور باطن دونوں سے ہے ۔ اس لیے اس کے مفہوم کو جاننا، اس کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کے مخالف رویوں سے بچنا ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تواضع اختیار کرنے اور تکبرانہ چال و ڈھال سے منع فرمایا:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمان: 18، پ 21)

تواضع کے فضائل:تواضع اختیار کرنے والوں کے فضائل خود قرآن پاک میں بیان کیے گئے ہیں:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (فرقان،63)

کامل ایمان والے اپنے نفس کے ساتھ ایسا معاملہ رکھتے ہیں کہ وہ وقار اور اطمینان کے ساتھ، عاجزانہ انداز میں زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ وہ متکبرانہ انداز میں جوتے کھٹکھٹاتے یا پاؤں زور سے مارتے ہوئے نہیں چلتے ۔

(مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: 63، ص 809، ملخصاً)

تواضع کا معاشرتی کردار: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل ۔

(الاسراء، 37)

یاد رکھیں کہ فخر و تکبر کی چال، متکبرین کی نشست و برخاست، اور خودنمائی کے انداز سب ممنوع ہیں ۔ ہمارے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے اور گفتگو میں تواضع اور انکساری ہونی چاہیے ۔ بات چیت نرم ہو، چال میں وقار ہو، اور انداز متواضع ہو ۔ متکبرانہ اور غیر مہذب چال اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عقائد و عبادات کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت، رہن سہن اور طرزِ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر گوشے سے اسلامی اقدار کی جھلک نظر آنی چاہیے ۔ افسوس ان مسلمانوں پر جو کفار کے طور طریقوں پر عمل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اسلامی طریقے آپنانے میں شرماتے ہیں ۔

(صراط الجنان، پ 15، سورۃ الاسراء، آیت 37-38)

اللہ پاک ہمیں غرور و تکبر سے بچا کر عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین