محمد
زین العابدین عطاری ( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،
پاکستان)
اللہ پاک
نے انسانوں کو کامیابی اور رہنمائی کے بارے میں قرآن مجید میں بارہا واضح انداز میں
ذکر فرمایا ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ
انسان اپنی زندگی کو کس طرح باوقار اور کامیاب بنا کر گزار سکتا ہے ۔
تواضع کا
لغوی و اصطلاحی مفہوم: لغوی معنی: عاجزی اور انکساری اختیار کرنا ۔ اصطلاحی معنی: آپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ
سمجھنا، عاجزی و انکساری آپنانا اور غرور و تکبر سے بچنا ۔
تواضع اختیار
کرنا:تواضع کا تعلق انسان کے ظاہر اور باطن دونوں سے ہے ۔ اس لیے اس کے مفہوم کو جاننا، اس کی تعلیم حاصل
کرنا اور اس کے مخالف رویوں سے بچنا ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تواضع
اختیار کرنے اور تکبرانہ چال و ڈھال سے منع فرمایا:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ
مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ
کنزالعرفان: اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر
کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمان: 18، پ 21)
تواضع کے
فضائل:تواضع اختیار کرنے والوں کے فضائل خود قرآن پاک میں بیان کیے گئے ہیں:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ
کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (فرقان،63)
کامل ایمان
والے اپنے نفس کے ساتھ ایسا معاملہ رکھتے ہیں کہ وہ وقار اور اطمینان کے ساتھ،
عاجزانہ انداز میں زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ وہ متکبرانہ انداز میں جوتے کھٹکھٹاتے یا پاؤں زور سے مارتے ہوئے نہیں چلتے
۔
(مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: 63، ص 809، ملخصاً)
تواضع کا
معاشرتی کردار: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ترجمۂ کنزُالعِرفان:
اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل ۔
(الاسراء،
37)
یاد رکھیں
کہ فخر و تکبر کی چال، متکبرین کی نشست و برخاست، اور خودنمائی کے انداز سب ممنوع
ہیں ۔ ہمارے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے اور
گفتگو میں تواضع اور انکساری ہونی چاہیے ۔ بات چیت نرم ہو، چال میں وقار ہو، اور انداز متواضع ہو ۔ متکبرانہ اور غیر مہذب چال اللہ تعالیٰ کو ناپسند
ہے ۔
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عقائد و عبادات کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت،
رہن سہن اور طرزِ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر گوشے سے اسلامی اقدار کی
جھلک نظر آنی چاہیے ۔ افسوس ان مسلمانوں پر جو کفار کے طور طریقوں پر عمل کرنے میں
فخر محسوس کرتے ہیں اور اسلامی طریقے آپنانے میں شرماتے ہیں ۔
(صراط
الجنان، پ 15، سورۃ الاسراء، آیت 37-38)
Dawateislami