محمد
عاشق رضا ( درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،
پاکستان)
دینِ اسلام
ایک ایسا کامل و پاکیزہ دین ہے جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی
فرماتا ہے ۔ خواہ معاملہ شریعت کے احکام
کا ہو یا عبادات کا یا اخلاقیات کا ۔ دین اسلام ہر پہلو میں ایسا روشن راستہ
دکھاتا ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے ۔ اسلام کی انہی
پیاری تعلیمات میں سے ایک نہایت خوبصورت وصف تواضع ہے یہ وہ صفت ہے جو انسان کو
انسانیت کے اعلیٰ درجے تک پہنچاتی ہے ۔ جوشخص اس وصف کواختیار کرتا ہے وہ اللہ عزوجل کا محبوب اور معاشرے کا بہترین
فرد بن جاتا ہے ۔
اللہ رب
العزت نے قرآن مجید میں اپنے خاص و محبوب بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان، آیت 63)
اسی طرح ایک
اور مقام پر فرمایا: وَ بَشِّرِ
الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمۂ کنزُالایمان:اور اے محبوب! خوشی سنا دو ان
تواضع کرنے والوں کو۔ (سورۃ الحج، آیت 34 )
ان آیاتِ
مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ پاک اپنے ان بندوں سے محبت فرماتا ہے جو تواضع اور
انکساری اختیار کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف رب کے محبوب بنتے ہیں
بلکہ معاشرے میں بھی عزت و وقار کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں ۔ تواضع وہ صفت ہے جو
انسان کو تکبر سے بچاتی ہے اور رب کا قرب عطا کرتی ہے ۔ جو شخص عاجزی اختیار کرتا ہے، وہ دراصل اپنے رب
کے احکام کو بجا لاتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ
نے ایک اور مقام پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ
الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے
رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان
دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 24)
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ اللہ پاک اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تواضع اور عاجزی کو لازم
پکڑو، خاص طور پر والدین کے ساتھ نرمی و انکساری سے پیش آؤ یہی طرز عمل انسان کو
کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے ۔
اسی طرح
ربِّ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ترجمۂ کنزالعرفان:اور
لوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رُخسار ٹیڑھا نہ کر ۔ (سورۃ لقمان، آیت 18)
حضرتِ
علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام و کلام
اور ملاقات کے وقت بطورِ تواضع اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے رکھو، ان سے چہرہ نہ
پھیرنا، کیونکہ متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،
خصوصاً فقراء و مساکین کو ۔ بلکہ تمہارے لیے
لازم ہے کہ امیر و غریب، دونوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں برابری ہو ۔
(تفسیر روح
البیان، پ 21، سورۃ لقمان، تحت الآیۃ: 84/7/18)
تکبر و
غرور شیطان کی خصلت ہے جب کہ عاجزی انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کی صفت ہے یہی
صفت انسان کو اللہ عزوجل کے نزدیک بلند مرتبہ عطا کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں
عزت عطا کرتی ہے ۔ اسی طرح حدیث پاک میں بھی تواضع کے متعلق پیارے آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے :
حضرت عمر
رضی الله عنہ سےروایت ہے آپ نے منبر پر فرمایا اے لوگو انکساری اختیار کرو کیونکہ
میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کے لیے
انکسار و عجز کرتا ہے الله اسے اونچا کردیتاہےتو وہ اپنے دل کا چھوٹا ہوتا ہے اور
لوگوں کی نگاہ میں بڑااور جوغرورکرتا ہے الله تعالٰی اسے نیچا کردیتا ہے تو وہ
لوگوں کی نگاہ میں چھوٹا ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا حتی کہ وہ لوگوں کے نزدیک
کتے اور سؤر سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 حدیث نمبر:5119 )
ان تفاسیر ،آیات اور حدیث پاک سے روز روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ دین اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر موقع
پر یہ رہنمائی دیتا ہے کہ جب بھی کسی سے ملاقات یا گفتگو کرو تو عاجزانہ انداز میں
کرو نہ کہ متکبرانہ رویہ اختیار کرو ۔ چاہے وہ امیر ہو یا غریب فقیر ہو یا مسکین ،
سب کے ساتھ تواضع اور نرمی سے پیش آؤ کیونکہ یہی وصف انسان کو رب کا محبوب اور
معاشرے کا بہترین فرد بناتا ہے ۔
Dawateislami