تواضع یعنی عاجزی ایک ایسا اعلیٰ اخلاق ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور بندوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے ۔  جو جتنا بڑا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی جھکتا ہے ۔ عاجزی اختیار کرنا اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ہے ۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو غرور، تکبر اور خود پسندی سے بچاتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مسلمان کا تکبر سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ انسان کمزور اور محدود ہے ۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ عاجزی کی بہترین مثال تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ" ترجمہ: اور کوئی شخص ( صرف اور صرف ) اللہ کی خاطر تواضع ( انکسار ) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے ۔ (صحیح مسلم حدیث 6592)

آپ ﷺ خود جھاڑو دیتے، جوتے سی لیتے، غلاموں سے نرمی سے بات کرتے، اور عاجزی اختیار فرماتے ۔ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (سورۃ الفرقان: 63)

یعنی اللہ کے خاص بندے وہ ہیں جو زمین پر اترا کے نہیں چلتے عاجزی اور تواضع اختیار کرتے ہیں ۔ تواضع دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے سے روکتی ہے ۔ ایسا شخص بڑوں کا احترام کرتا ہے، چھوٹوں سے محبت سے پیش آتا ہے اور ہر ایک کو عزت دیتا ہے ۔ قرآن مجید ایک اور جگہ فرمایا گیا:

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمہ کنزالعرفان:اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (سورۃ لقمان: 18)

تواضع انسان کو اللہ کے قریب لاتی ہے اور معاشرے میں سکون و محبت پھیلاتی ہے ۔ یہ وہ روشنی ہے جو دلوں کو منور کرتی ہے اور انسان کو کامیاب بناتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تواضع کو اپنائیں، دوسروں کو عزت دیں، نرم لہجے میں بات کریں، اور اللہ کے بندوں سے شفقت سے پیش آئیں ۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین