محمد
شہریار عطاری (درجۂ سادسہ مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،
پاکستان)
تواضع یعنی
عاجزی ایک ایسا اعلیٰ اخلاق ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور بندوں
کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے ۔ جو جتنا
بڑا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی جھکتا ہے ۔ عاجزی
اختیار کرنا اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ہے ۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو غرور، تکبر اور خود
پسندی سے بچاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ
قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ مسلمان کا تکبر سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ انسان کمزور اور محدود
ہے ۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ عاجزی کی بہترین مثال تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"وَمَا
تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ" ترجمہ: اور کوئی شخص ( صرف اور صرف ) اللہ کی
خاطر تواضع ( انکسار ) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا
ہے ۔ (صحیح مسلم حدیث 6592)
آپ ﷺ خود
جھاڑو دیتے، جوتے سی لیتے، غلاموں سے نرمی سے بات کرتے، اور عاجزی اختیار فرماتے
۔ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر اللہ
تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ
کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (سورۃ الفرقان: 63)
یعنی اللہ
کے خاص بندے وہ ہیں جو زمین پر اترا کے نہیں چلتے عاجزی اور تواضع اختیار کرتے ہیں
۔ تواضع دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے سے روکتی ہے
۔ ایسا شخص بڑوں کا احترام کرتا ہے،
چھوٹوں سے محبت سے پیش آتا ہے اور ہر ایک کو عزت دیتا ہے ۔ قرآن مجید ایک اور جگہ
فرمایا گیا:
وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ
کنزالعرفان:اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے
ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (سورۃ لقمان: 18)
تواضع
انسان کو اللہ کے قریب لاتی ہے اور معاشرے میں سکون و محبت پھیلاتی ہے ۔ یہ وہ روشنی ہے جو دلوں کو منور کرتی ہے اور
انسان کو کامیاب بناتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تواضع کو اپنائیں، دوسروں کو عزت دیں،
نرم لہجے میں بات کریں، اور اللہ کے بندوں سے شفقت سے پیش آئیں ۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے ۔
Dawateislami