محمد
اسداللہ عطاری ( درجۂ سابعہ مرکزی
جامعہ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی ،
پاکستان)
قرآن پاک میں
"تواضع" یعنی عاجزی، انکساری کو نہایت پسندیدہ وصف کے طور پر بیان کیا گیا
ہے، جبکہ تکبر و غرور کو سختی سے منع فرمایا گیا ہے، کیونکہ تواضع ایسی خوبی ہے کہ
جو بندے کو تمام انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرنے کا طریقہ سکھاتی
ہے، معاشرے میں انسان کے احترام اور اس کے وقار کا سبب بن کر باہمی اعتماد اور
سکون وراحت کا باعث بنتی ہے ۔ یہ صفت
انسان کے اخلاق کو زینت بخشتی ہے اور اچھے تعلقات اور مخلصانہ روابط کو مضبوط کرتی
ہے، انسانوں کے حقوق کو تسلیم کرنے اور ہر قسم کی جارحیت اور دوسروں کے حقوق پامال
کرنے سے روکتی ہےمختصر یہ کہ عاجزی، انکساری اور تواضع بہت سی انفرادی و اجتماعی،
معنوی و اخلاقی برکات کا سرچشمہ ہے ۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ ایک ایسی نیکی
ہے کہ جو تواضع اختیار کرتا ہے اس سے لوگ حسد نہیں کرتے ۔ خالق کائنات نے کثیر مقامات پر تواضع کا ذکر
فرمایا ہے،آئیے چند آیات ملاحظہ کرتے ہیں :
(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (پ19،الفرقان : 63)
اس آیت میں
زمین پر وقار، اطمینان اور عاجزانہ شان سے چلنے کو مومنین کی صفت کراردیا گیا ہے
کہ اگرچہ دنیا میں تمام انسان ہی عباد الرحمٰن (اللہ کے بندے) ہیں لیکن یہاں تواضع
اختیار کرنے والے بندوں کی رحمٰن کی طرف نسبت کرنا، ان بندوں کے شرف کو بیان کرنے
کیلئے ہے ۔
ہمارے پیارے آخری نبی ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ التَّوَاضُع یعنی افضل عبادت
تواضع ہے ۔ ( شعب الایمان، 6/ 278، حدیث:8148)
(2) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (پ15،بنی اسرائیل:37)
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ تکبرانہ طریقے سے چلنا
اللہ جل جلالہ کو کتنا نا پسند ہے نیز یہ کہ تکبر و غرور سے کچھ فائدہ نہیں البتہ
کئی صورتوں میں تو گناہ بھی لازم ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا اترانا چھوڑیے اور تواضع(عاجزی و انکساری)
اختیار کیجئے ۔
(3) وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ
کنزالایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو۔ (پ
17،الحج:34، 35)
اِن آیاتِ
مبارکہ میں بھی صفتِ تواضع کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اسی صفت کو اختیار کرنے پر
قرآن مجید انہیں خوشخبری سنا رہا ہے ۔
(5) وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان : اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (پ 14،الحجر:88)
یعنی اے حبیب
خدا ﷺ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر اس طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔
(صاوی،
الحجر، تحت الآیۃ: 88، 3 / 1051)
حضرت علامہ علی قاری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :جو شخص مسلمانوں
کے ساتھ جتنا زیادہ عاجزی اور اِنکساری سے پیش آئے گا وہ اتنا ہی زیادہ مقرب
بندوں کے اعلیٰ مَراتب پر فائز ہو گا اور جو جتنا زیادہ تکبر اور ظلم کرے گا وہ
اتنا ہی زیادہ پَست مقام پر ہو گا ۔ (مرقاۃ المفاتیح،8 / 827، تحت الحدیث : 5106)
Dawateislami