اسلام کی روشن تعلیمات کا ایک بہت ہی حسین پہلو عاجزی اختیار کرنا ہے ۔  اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تواضع اور عاجزی کی تعلیم دی ہے، یہ ایسا وصف ہے کہ جو انسان کو انسانوں اور دیگر جانداروں کا خیال رکھنے، ان کے ساتھ مناسب انداز میں پیش آنے اور ان کے دکھ درد میں شامل ہونے پر ابھارتاہے ۔ اس وصف کو قرآن و حدیث میں جس انداز میں بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے ، چنانچہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم

میں اِرشاد فرمایا:

(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)

(2) وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔

اِن آیاتِ مقدسہ میں اللہ پاک نے اپنے کامل الایمان بندوں کے ایک خاص وَصف ”عاجزی و اِنکساری“ کا بھی ذِکر فرمایا کہ وہ زمین پر اِطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے چلتے ہیں اور پھر ان تواضع کرنے والوں کو خوشی کا مژدۂ جانفزا سنایا گیا ۔ معلوم ہوا کہ عاجزی و اِنکساری اِختیار کرنا اور عاجزانہ چال چلنا اللہ پاک کے نیک بندوں کا طریقہ ہے جبکہ متکبرانہ طور پر جوتے کھٹکھٹاتے،پاؤں زور سے مارتے اور اِتراتے ہوئے چلنا متکبرین کا طریقہ ہے جس سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے چنانچہ اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:

(3) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)

(4) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ۔ (الاعراف،36)

اس آیت سے معلوم ہو اکہ تکبر کی بہت بڑی قباحت یہ ہے کہ آدمی جب تکبر کا شکار ہوتا ہے تو نصیحت قبول کرنا اس کیلئے مشکل ہوجاتا ہے ۔

(5) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔ یاد رَکھیے! اپنے آپ کو بڑا سمجھنے،غرور و تکبر کرنے اور اِترا کر چلنے سے اِنسان کی شان بلند نہیں ہو جاتی اور نہ ہی مال و اَولاد کی کثرت اور قوم قبیلے کے زیادہ ہونے سے عزت و عظمت اور شان و شوکت میں اِضافہ ہوتا ہے ۔ عزت و عظمت،شان و شوکت اور بلندی اُسے ملتی ہے جسے اللہ پاک عطا فرماتا ہے اور اللہ پاک اُسے عطا فرماتا ہے جو عاجزی و اِنکساری کرتا ہے۔