حسام
رضا ( درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
انسانی
معاشرے کی خوبصورتی اخلاقِ حسنہ سے ہے، اور ان اخلاق میں تواضع یعنی عاجزی کو ایک
بلند مقام حاصل ہے ۔ یہ ایک ایسی خوبی ہے
جو انسان کو غرور، تکبر، اور خودپسندی جیسے مہلک امراض سے محفوظ رکھتی ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار بندگانِ
مؤمن کو تواضع اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ بھی عاجزی کا کامل نمونہ ہے، جو ہمیں یہ سکھاتی
ہے کہ بلندی وہی ہے جو جھکنے سے حاصل ہو ۔
(1)وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک
تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (بنی اسرائیل ،37)
صراط
الجنان: یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں
، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار کے
ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے
بھی ہمیں بتاتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی
جھلک نظر آنی چاہیے ۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی طریقے اپنانے
میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔ آیت میں فرمایا گیا کہ زمین میں اتراتے
ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہٰذا اترانا چھوڑو اور عاجزی و انکساری قبول کرو ۔
(2)لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ
وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں
، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (النحل،23)
صراط
الجنان :عاجزی اختیار کرنا اور مسکین کے ساتھ بیٹھنا: چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر
رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت
ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا
’’عاجزی اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا
کرو، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا
مرتبہ بلند ہو جائے گا اور تکبر سے بھی بری ہو جاؤ گے ۔ (کنز العمال، کتاب
الاخلاق، قسم الاقوال، ۲ / ۴۹، الحدیث: ۵۷۲۲، الجزء الثالث)
(3) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔
صراط
الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا
نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی،
چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ
اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش
آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی
شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ ( مدارک،
لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)
Dawateislami