اویس
رضا عطّاری ( درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
لوگوں کی
طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا
اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکسار کہلاتا ہے ۔ (فیض
القدیر، حرف الھمزۃ، ۱ / ۵۹۹، تحت الحدیث:
۹۲۵ماخوذا،
دار الکتب العلمیہ)
اس وصف کو
قرآن پاک میں جس انداز میں بیان کیا گیا
ہے اس کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے ، چنانچہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اِرشاد فرمایا:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (پ19، الفرقان: 63)
ایک اور
مقام پر اِرشاد فرمایا: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)
ترجمہ
کنزالعرفان: اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (پ17، الحج: 34، 35)
اِن آیاتِ
مبارکہ میں اللہ پاک نے اپنے کامل الایمان بندوں کے ایک خاص وَصف ”عاجزی و
اِنکسار“ کا بھی ذِکر فرمایا کہ وہ زمین پر اِطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ
شان سے چلتے ہیں اور پھر ان تواضع کرنے والوں کو خوشی کا مژدۂ جانفزا سنایا گیا
۔ معلوم ہوا کہ عاجزی و اِنکساری اِختیار
کرنا اور عاجزانہ چال چلنا اللہ پاک کے نیک بندوں کا طریقہ ہے جبکہ متکبرانہ طور
پر جوتے کھٹکھٹاتے،پاؤں زور سے مارتے اور اِتراتے ہوئے چلنا متکبرین کا طریقہ ہے
جس سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے چنانچہ اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی
اسرائیل،37)
یاد رَکھیے!
اپنے آپ کو بڑا سمجھنے،غرور و تکبر کرنے اور اِترا کر چلنے سے اِنسان کی شان بلند
نہیں ہو جاتی اور نہ ہی مال و اَولاد کی کثرت اور قوم قبیلے کے زیادہ ہونے سے عزت
و عظمت اور شان و شوکت میں اِضافہ ہوتا ہے ۔ عزت و عظمت،شان و شوکت اور بلندی اُسے ملتی ہے جسے اللہ پاک عطا فرماتا ہے
اور اللہ پاک اُسے عطا فرماتا ہے جو عاجزی و اِنکساری کرتا ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں
ہے: مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللہ ُ یعنی جو اللہ پاک کے
لئے عاجزی کرتا ہے اللہ پاک اُسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ ۔ ۔ ۔
الخ ، باب استحباب العفووالتواضع ، ص۱۳۹۷، حدیث: ۲۵۸۸، دار
المغنی)
عاجزی کی ضد تکبر ہے اور تکبُّرخُود کو افضل،
دوسروں کو حقیر جاننے کا نام ہے ۔ تکبر کی
مذمت میں 2 فرامینِ خداوندی ملاحظہ
ہوں:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (پ14، النحل:23)
ایک اور
مقام پر ارشاد فرماتا ہے: كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ
مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان: اللہ ہرمتکبر سرکش کے دل پراسی
طرح مہر لگا دیتا ہے ۔ (پ24، المؤمن:35)
Dawateislami