محمّد
عظیم خان (درجۂ سابعہ مرکزی
جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ کراچی ،
پاکستان)
تواضع ایک
نہایت اعلیٰ خُلق ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب اور بندوں کے دلوں میں محبوب
بناتا ہے ۔ تواضع کا مطلب ہے عاجزی،
انکساری اور اپنے آپ کو کسی سے بہتر نہ سمجھنا ۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ
نے مؤمنین کو تکبر سے بچنے اور عاجزی اختیار
کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔
قرآن کریم
میں تواضع کا ذکر: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب
جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃ الفرقان: 63)
یہ آیت کریمہ
بندگانِ خاصِ رحمٰن کی ایک نمایاں صفت بیان کرتی ہے ۔ کہ وہ
نرم خُلق، باادب، اور متواضع ہوتے ہیں ۔ ان کا چلنا، بولنا اور برتاؤ سب میں وقار اور انکساری جھلکتی ہے ۔
تکبر کی
مذمت:اللہ تعالیٰ نے تکبر کو ناپسند فرمایا: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)
یعنی انسان
اگر تکبر کرے تو بھی وہ اللہ کی قدرت کے مقابل کچھ نہیں ۔ اس لیے غرور کی کوئی گنجائش نہیں ۔
انبیاءِ
کرام کی تواضع:اللہ کے برگزیدہ نبیوں نے ہمیشہ عاجزی اختیار کی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام
کی دعا قرآن میں یوں آئی: رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان: عرض کی اے میرے رب میں اس
کھانے کا جو تو میرے لیے اُتارے محتاج ہوں ۔ (سورۃ القصص: 24)
یہ انکساری
کی بہترین مثال ہے کہ ایک جلیل القدر نبی اپنی محتاجی کا اعتراف اپنے رب کے سامنے
کر رہا ہے ۔
آپ ﷺ نہایت
سادہ زندگی گزارتے، اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھتے، غریبوں سے محبت فرماتے، اور کبھی
کسی پر فخر نہ کرتے ۔ یہی قرآن حکیم کے پیغامِ تواضع کی عملی تفسیر ہے ۔
تواضع ایمان
والوں کی زینت ہے اور تکبر ایمان کو زائل کر دیتا ہے ۔ قرآن مجید ہمیں یہ سبق دیتا
ہے کہ جو بندہ عاجز بنتا ہے، اللہ اسے عزت و رفعت عطا فرماتا ہے ۔ اسی لیے مؤمن کی
پہچان انکساری، نرمی اور خُلقِ حسنہ ہے ۔ تواضع ایمان کی نشانی ہے ۔ تکبر شیطان کی
عادت ہے ۔ اللہ کے مقرب بندے نرم گفتار اور عاجز ہوتے ہیں ۔ نبی ﷺ کی پوری سیرت
تواضع کی روشن مثال ہے ۔ جو اللہ کے لیے جھکتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے ۔
Dawateislami