ملائکہ پر فضیلت:فرشتے نوری مخلوق ہیں۔(دس عقیدے،ص60)ان کی تعداد وہی جانے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور اُس کے بتائے سے اُس کا رسول۔چار فرشتے بہت مشہور ہیں:جبرائیل،میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام اور یہ سب ملائکہ پر فضیلت رکھتے ہیں۔(بہارِ شریعت،1/ 94 ،حصہ:1)

ملائکہ کا بیان:فرشتے اجسام نوری ہیں،اللہ پاک نے ان کو طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاھر ہوتے ہیں اور کبھی دوسری شکل میں۔وہ وہی کرتے ہیں جو حکمِ الٰہی ہے،خدا کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے، نہ قصداً نہ سہواً نہ خطاً وہ اللہ پاک کے معصوم بندے ہیں،ہر قسم کے صفائر و کبائر سے پاک ہیں۔(بہار شریعت، 1/90، حصہ:1 )

حضور ﷺ کی فرشتوں سے محبت:جس طرح حضور ﷺکو صحابہ کرام و اہلِ بیت سے محبت تھی،اسی طرح آپ کو فرشتوں سے بھی محبت تھی۔اللہ پاک نے اپنے حبیبﷺ کے بارے میں ارشاد فرمایا :وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) 17،الانبیاء: 107)ترجمہ: اورہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔

چونکہ عالمین میں فرشتے بھی داخل ہیں،اس لیے رسول کریم ﷺ فرشتوں کے لیے بھی رحمت مطلق ہیں تو یقیناً ان سے افضل بھی ہیں ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا :میرے دو وزیر آسمان میں ہیں اور دو وزیر زمین میں ہیں۔آسمان میں میرے دو وزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں اور زمین میں میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہیں۔(مستدرک،2/ 654،653، حدیث:3101-3100)

حضور ﷺ کی فرشتوں سے محبت آپ کی عظیم صفت ہے جو آپ کی شفقت،عظمت اور اللہ پاک سے قربت کی علامت ہے۔دعوتِ اسلامی اس محبت کو صحابہ کے ساتھ محبت کی طرح بیان کرتی ہے جس میں فرشتوں کی اطاعت،ان کے ساتھ تعلق اور ان کو اونچا مقام دینا وغیرہ کا درس ہے۔یہ محبت در اصل اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی محبت کا حصہ ہے جس سے فرشتے اللہ پاک کے حکم سے حضور ﷺ کے کاموں میں مدد کرتے ہیں اور آپ کی اتباع کرتے ہیں ۔

نور سے تخلیق: فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں اور حضور بھی نور ہیں۔اس نورانی رشتے کی وجہ سے بھی حضور کا فرشتوں سے خاص تعلق ہے۔