تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت شہاب، ہند (ویسٹ بنگال)
اللہ رب العزت
نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنے خصوصی کرم سے انبیائے کرام کو مبعوث
فرمایا۔ سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی ہمارے پیارے
آقا محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا، اسی نظریے
کو عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔
عقیدۂ ختمِ
نبوت فقط ایک عام عقیدہ یا فروعی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے ایمان کی اساس اور
بنیاد ہے، اور ضروریات دین میں شامل ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ
جو شخص مدینے کے تاجدار، محمد عربی ﷺ کو آخری نبی نہ مانے یا اس میں ذرہ برابر بھی
شک کرے، وہ کافر و مرتد ہے۔ اللہ نے نبوت و رسالت کا دروازہ پیارے آقا ﷺ پر ہمیشہ
کے لیے بند فرما دیا ہے اور خاتم الانبیاء کا درخشاں تاج ہمارے پیارے نبی حضرت
محمد مصطفیٰ ﷺ کے سر مبارک پر سجا دیا گیا ہے۔
تاجدار انبیاء
محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، یہ عقیدہ
ہمیں قرآن و حدیث سے صراحتاً ملتا ہے۔
قرآن کریم میں
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ
وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب:
40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
چونکہ عقیدۂ ختمِ
نبوت ہمارے ایمان کا ایک انتہائی حساس اور اہم ترین مسئلہ ہے اور تمام فرضوں سے
بڑھ کر اس کا جاننا اور ماننا فرض ہے، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے
عہد مبارک سے ہی اس عقیدے کی حفاظت کی سعی ہوتی رہی ہے، اور آج تک علمائے کرام اس
کی محافظت اور اشاعت کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر علمائے اہل سنت کا ذکر کیا جائے تو
سینکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں لاکھوں علمائے اہل سنت نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی پہرے داری
کی ہے۔ اگر ان سب کا ذکر کیا جائے تو کئی ضخیم کتابیں مرتب ہو جائیں گی، اور تاریخ
میں ایسی کئی ضخیم کتابیں ان علمائے اہل سنت کے شاندار تذکروں سے بھری پڑی ہیں۔ ہم
یہاں چند علمائے اہل سنت کا مختصر ذکر کرتے ہیں جنہوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت پر پہرے
داری کا حق ادا فرمایا اور ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے آخری دم تک برسر پیکار
رہے:
1۔ مولانا غلام دستگیر قصوری: انگریز دورِ حکومت میں مرزا
غلام احمد قادیانی نے کبھی مجدد اور کبھی مسیح ہونے کا دعویٰ کیا، اور بالآخر اس
نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ بھی کر دیا۔ اس جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ
سنی عالم حضرت غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے جاری کیا۔ آپ نے اپنی ایمانی
فراست سے اس فتنے کو ابتدا ہی میں بھانپ لیا اور اس کی سرکوبی کے لیے روزِ اول سے
ہی سرگرمِ عمل رہے۔
2۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان: محافظِ ختمِ
نبوت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نے ناموس رسالت اور تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کی
پاسبانی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید میں ایسے
مدلل فتاویٰ جاری کیے جنہیں برصغیر پاک و ہند میں بےپناہ اہمیت دی گئی اور آج بھی
یہ فتاویٰ مسلمہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے اس فتنے سے مسلمانوں کے
ایمان کی حفاظت کے لیے تقریباً دس اہم کتب بھی تصنیف فرمائیں۔ فتاویٰ رضویہ میں
قادیانیوں کے خلاف کئی فتاویٰ موجود ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اپنی پوری زندگی ناموسِ
رسالت کی حفاظت کے لیے وقف کر دی۔
3۔ حضرت پیر مہر علی شاہ: حضرت پیر مہر علی شاہ نے قادیانیت کی
تردید اور تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کے لیے مشہور زمانہ کتاب شمس الھدایہ تصنیف
فرمائی۔ اس کے علاوہ آپ نے قادیانیوں کو مناظرے کے ایسے شاندار چیلنج دیے کہ آج تک
قادیانی طبقہ ان کا جواب دینے سے عاجز ہے۔
4۔ پیر جماعت علی شاہ: امیرِ ملت حضرت پیر جماعت علی شاہ نے
مرزا اور اس کے ساتھیوں کو مناظرہ و مباہلہ کی دعوت دی اور للکار کر فرمایا (جس کا
مفہوم یہ ہے): وہ جو چاہے کہے، میں مباہلے کے لیے تیار ہوں کیونکہ میرا نبی سچا ہے
اور مرزا جھوٹا ہے۔ اور جلد ہی اللہ رب العزت ہمیں اس جھوٹے دجال سے نجات عطا
فرمائے گا۔ اسی رات مرزا غلام احمد قادیانی ہیضے کے مرض میں مبتلا ہوا اور اگلی
صبح بیت الخلاء میں واصل جہنم ہو گیا۔ گویا اللہ والوں کی زبان سے نکلی ہوئی بات
حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔
5۔ امیر المجاہدین خادم حسین رضوی: خادم حسین
رضوی علیہ الرحمہ ماضی قریب کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی تمام زندگی حضور ﷺ
کی ناموس پر پہرہ دیا۔ انہوں نے تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت پر اپنا تن، من، دھن اور
اولاد سب نچھاور کر دیا۔ انہوں نے اس موضوع پر کئی کتب لکھیں، بیانات کیے، اور اسی
سلسلے میں کئی بار ظلم و تشدد کا شکار بھی ہوئے، مگر آخری سانس تک اس عقیدے کی
ترویج و اشاعت اور تحفظ کرتے رہے۔
6۔ امیرِ اہلِ سنت ابو بلال محمد الیاس عطار قادری: موجودہ
دور میں تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت پر کمال حکمت عملی کے ساتھ بڑے پیمانے پر کام کرنے
والے علمائے اہل سنت میں ایک انتہائی اہم نام امیر اہل سنت الیاس عطار قادری کا
ہے۔ آپ نے اپنے بے شمار بیانات اور مدنی مذاکروں کے ذریعے اس عقیدے کی پختگی کا
سامان کیا اور بد مذہبوں نیز منکرین ختمِ نبوت کا بھرپور رد فرمایا۔ آپ نے امت کو
ایک دلنشین نعرہ عطا کیا: محمد مصطفیٰ ﷺ سب سے آخری نبی۔ الحمد للہ! یہ نعرہ اس
قدر مقبول ہوا کہ آج بچے بچے کی زبان پر جاری نظر آتا ہے۔ اپنی اس حکمت عملی کے
ذریعے آپ نے نہ جانے کتنے گھروں تک اس اہم عقیدے کی روشنی پہنچا دی اور لاکھوں
مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنے۔ اللہ رب العزت انہیں سلامت رکھے۔
جس
طرح ہر دور میں جھوٹے مدعیانِ نبوت سر اٹھاتے رہے ہیں، بالکل اسی طرح ہر دور میں
اس فتنے کو کچلنے اور مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی مرد
مجاہد اور علمائے اہلِ سنت موجود رہے ہیں، جنہوں نے اپنی بے پناہ کوششوں، حکمت
عملی اور جان و مال کو حضور ﷺ کے قدموں میں نچھاور کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی
حفاظت فرمائی۔ کسی نے اپنی تحریروں سے، کسی نے فتاویٰ سے، کسی نے نعتیہ کلام سے،
کسی نے مناظرے و مباہلے کے چیلنج سے، اور کسی نے نیکی کی دعوت دے کر اس عقیدے کی
بھرپور صراحت فرمائی۔ غرض ہر عالم دین نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بے مثال
خدمات انجام دی ہیں۔
ان
میں سے چند مشہور نام: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان، مولانا غلام قادر بھیروی،
مولانا اصغر علی روحی، پیر مہر علی شاہ، مولانا حشمت علی، قاضی سلطان محمود،
مولانا محمد حامد رضا بریلوی، خواجہ ضیاء الدین سیالوی، مولانا سید نعیم الدین
مراد آبادی، محدث اعظم پاکستان، مفتی غلام مرتضیٰ، شیر اسلام مفتی محمد عنایت
اللہ، قاضی فضل الدین، غازی ممتاز قادری، اور مفتی ضیاء احمد قادری قابل ذکر ہیں۔
اللہ رب العزت
ہمیں اور ہماری نسلوں کو عقیدۂ ختمِ نبوت کا سچا محافظ بنائے اور ہمیں تا دمِ مرگ
اس عقیدے پر ثابت قدم رکھے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
نہیں
ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی
وہ
ہیں شاہِ رسل، ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں
Dawateislami