حضرت یونس علیہ السلام کا اجمالی ذکر خیر سورۃ نسا ء آیت: 163 اور سورۃانعام آیت: 86 میں ہے جبکہ تفصیلی تذکرہ درج ذیل4 سورتوں میں ہے۔

(1) سورۃ یونس آیت: 98 (2) سورۃانبیاء آیت: 87٫88ـ (3) سورۃ صافات آیت: 139تا148 (4) سورۃ قلم آیت: 48تا50

حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:آپ علیہ السلام کا نام پاک یونس بن متی ہے چونکہ مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو "ذوالنون"اور"صاحب الحوت"(یعنی مچھلی والے )بھی کہاں جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔

نزول احکام: آپ علیہ السلام پر جداگانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)

اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہے :اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الی اللہ٫رضا بالقضا اور ذکر الہی کی توفیق بخشی خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرما اور صالحین کی گروہ میں اعلی درجہ عطا فرمائے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (سورۃ قلم ،48تا 50)

حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم:حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالی نے حضرت یونس علیہ السلام کوان کی طرف رسول بنا کر بھیجا آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے طویل عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہ راست پر نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے بارگاہ الہی میں دعاکی : اے اللہ! قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے بس تو ان پر اپنا عذاب نازل کر دے اس پر ان سے فرمایا گیا آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جائے گا چنانچہ آپ علیہ السلام نے قوم کو نزول عذاب کی خبر دے دی ۔

قوم یونس کی توبہ اور رفع عذاب:نزول عذاب کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا :حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا جب رات ہوئی تو حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے اثار نمودار ہو گئے آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا٫ بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیایہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا لیکن آپ کو نہ پایا اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنے عورتوں بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہو گئے اور سب نے بارگاہ الہی میں گریہ وزاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت صالح علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جرائم ان سے ہوئے تھی انہیں دور کیا پرائے مال واپس کئے حتی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھر کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کر دیا اللہ تعالی سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو پروردگار عالم نے پر رحم کیا دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔

قرآن کریم میں ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)

حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی سفر اور مچھلی کا نگلنا:دوسری طرف حضرت یونس اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہو گئی ہیں تو آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر غضبناک ہو کر اللہ تعالی کی طرف سے اجازت نازل ہوئے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دیے اور آپ علیہ السلام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالی مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گا اور نہ ہی اس فعل پر مجھ سے کوئی باز پرس ہوگی حضرت یونس علیہ السلام کی ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے آپ علیہ السلام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ علیہ السلام نے وحی الہی سے ہی انہیں بتایا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عزوجل کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقعہ کے خلاف تھا اس لیے آپ قتل کے اندیشے سے وہاں سے چل دیے حالانکہ آپ علیہ السلام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی متعین وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ علیہ السلام کو معاذ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لیے) آپ علیہ السلام ان سے چھپ کر نکل گئے آپ علیہ السلام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہو گئے جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ کون ہے چنانچہ اور قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں اس کے بعد آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دیے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی ۔جب حضرت یونس علیہ السلام دریا میں ڈال دیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ علیہ السلام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالی کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا مروی ہیں کہ اللہ تعالی نے مچھلی کو الہام فرمایا: میں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تیرے لیے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لیے قید خانہ بنایا ہے لہذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی چھوڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔قران کریم میں ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:139،140)

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصفت:141،142)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا جیسے دریا کی تاریکی' رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی' ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار عزوجل سے دعا کی:اے میرے رب !عزوجل تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے' بیشک مجھ سے بےجا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہوگیا۔ (حوالہ سیرت الانبیاء صفحہ نمبر 491تا496)

لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ آسانی کے وقت اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے رہیں۔ تو وہ تمہیں تمہاری سختی اور مصیبت کے وقت یاد کرے گا۔