جن خوش نصیب نے ایمان کی حالت میں آقا علیہ السلام سے ملاقات کی اور ایمان کی حالت میں ہی دنیا سے تشریف لے گئے ان کو صحابی کہتے ہیں آقا علیہ السلام صحابہ سے بےحد محبت فرمایا کرتے تھے انصار وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ کی اور مہاجرین کی مدد کی۔آقا علیہ السلام کی ان سے شفقت بے مثال تھی۔

انصار پر شفقت کی وجہ ان کا ایثار تھا: انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مہاجرین کو اپنے گھروں، مالوں اور دلوں میں جگہ دی جس کے بدلے میں آقا علیہ السلام نے ان سے خصوصی محبت کا اظہار فرمایا۔

آئیے حدیث پاک کی روشنی میں آقا علیہ السلام کی محبت کے چند واقعات پڑھتے ہیں:

انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا پس جو شخص ان سے محبت کرے اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اسے اللہ ناپسند فرمائے گا۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3783)

معلوم ہوا کہ انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان سے دشمنی رکھنا بے ایمان لوگوں کا کام ہے۔

تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا۔(بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)

اگر میں ہجرت نہ کرتا تو انصار کا ایک فرد ہوتا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار جس وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں بھی انہی کی وادی میں جاؤں گا اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا۔(بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

مغفرت کی دعا: حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما۔ (بخاری، 2/264، حدیث: 2835)

نبی کریم ﷺ سے ملاقات : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا: میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو اور میری تم سے ملاقات حوض پر ہوگی۔ (بخاری، 2/558، حدیث: 3793)

انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور غلط کاروں سے درگزر کرو: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انصار میرے جسم وجان ہیں ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے لیکن انصار کم رہ جائیں گے اس لیے ان کے نیکوکاروں کی پذیرائی کیا کرنا اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا۔ (بخاری، 2/ 560، حدیث: 3801)

ایمان کی نشانی اور نفاق کی نشانی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت رکھنا ہے اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض رکھنا ہے۔(بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

انصار کے لیے خصوصی دعا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے انصاری صحابہ کے خاندانوں پر ہونے والے مظالم کے بعد تسلی کے لیے لکھااور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! انصار پر، انصار کی اولاد پر اور انصار کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

ان تمام احادیث پاک سے حضور اکرم ﷺ کی انصار صحابہ سے محبت کا پتہ چلا کہ کس قدر ان سے محبت تھی اس میں انصار سے محبت کو ایمان کی نشانی قرار دیا گیا ہے اللہ ہمیں اس طرح انصار سے محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین