حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت عبدالواحد،فیضان عطار گہوگا سیالکوٹ
ہجرت مدینہ کے
بعد انصارِ نے نبی کریم ﷺ کا جس محبت، احترام اور خلوص سے استقبال کیا، وہ اسلامی
تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا اور اسلام کی
سربلندی کے لیے اپنی ہر چیز قربان کر دی۔ رسول اللہ ﷺ بھی انصار سے بے پناہ محبت
کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے۔ یہی تعلق ہمیں
اخوت، محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے۔
انصار کا معنی
ہے مددگار دوست۔ انصارِ مدینہ سے مراد مدینہ کے وہ مسلمان ہیں جنہوں نے حضور اکرم ﷺ
کی اور مکہ مکرمہ سے آنے والے مہاجرین کی مدد کی۔
اللہ تعالیٰ
نے ارشاد فرمایا: لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ
اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا
وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰) (پ 27،
الحدید:10) ترجمہ کنز العرفان: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ
اور جہاد کیا وہ مرتبے میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا
اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔یہ
آیت مبارکہ انصار صحابہ کے حق میں نازل ہوئی۔
حدیث مبارکہ
کا مفہومِ ہے: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض
ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
انصار حضور ﷺ اور
مہاجرین کے ایسے انوکھے میزبان ہیں کہ کوئی مثال نہیں ملتی حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
سب کے احسانات کے بدلے ہم نے ادا کر دیے مگر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری
روایت میں ہے کہ انصار کے احسانات کا بدلہ نہیں ہو سکاقیامت میں رب سے دلوایا جائے
گا لہذا اس سے ثابت ہوا کہ انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احسانات کو یاد رکھا
جائے اور ان سے محبت کی جائے کہ وہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے محسن ہیں۔
ایک اور حدیث
مبارکہ میں آیا ہے کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے عداوت نہ کرےگا
مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے جس نے ان سے بغض
رکھا اللہ اس سے ناراض ہو۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
انصار سے وہی
محبت کرے گا جو کامل مومن ہوگا اور انصار سے بغض وہی رکھے گا جو اعتقادی یا عملی
منافق ہو گا۔
یہ کلمات دعا
اور بد دعا دونوں کو شامل ہیں یہاں دینی محبت وعداوت مراد ہے حضور اکرم ﷺ نے ان
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نام انصار رکھا اللہ نے بھی انہیں اسی نام سے یاد
فرمایا۔
بخاری شریف کی
ایک حدیث مبارکہ میں یوں فرمایا گیا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو ہم انصار میں سے ایک
صاحب ہوتے اور اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی
میں چلیں تو میں انصار کے جنگل یا انکی گھاٹی میں چلوں اور انصار اندرونی لباس ہیں
اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
خلاصہ کلام یہ
ہوا کہ حضور اکرم ﷺ صحابہ کرام میں انصار صحابہ سے زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے
ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی حضور ﷺ کی اس مبارک ادا کو اپنائے اللہ ہمیں صحابہ کی
سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Dawateislami