حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کا اسم گرامی یونس بن متی ہے آپ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے ہیں قرآن مجید میں آپ کا نام چار مرتبہ آیا ہے ۔اللہ پاک نے قرآن کریم میں ذوالنون اور صاحب الحوت کے لقب سے آپ کا ذکر فرمایا آپ کو موصل کے شہر نینوی کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم وہ واحد قوم ہے۔ جس پر عذاب کے آثار ظاہر ہونے کے بعد بھی عذاب ٹل گیا حالانکہ جب بھی کسی قوم پر عذاب کے آثار ظاہر ہوئے تو ان پر عذاب آ کر ہی رہا اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا آئیے ان میں سے چند مقامات کو ملاحظہ کیجئے:

(1)قوم کو دین کی دعوت:حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم بت پرستی کرتی تھی بتوں کی عبادت کرتی تھی اور اللہ تعالی کا ایک ہونے کا انکار کرتی تھی شرک میں مبتلا تھی حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں بت پرستی سے منع کیا اسی کے بارے میں اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ 11 ،سورۃ یونس آیت نمبر:98)

(2)حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام مچھلی کے پیٹ میں:حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کو عذاب کی خبر دی لیکن جب عذاب نہ آیا تو آپ علیہ الصلوۃ السلام وہاں سے چلے گئے کیونکہ وہاں کا دستور تھا کہ جھوٹے کو قتل کر دیا کرتے تھے لہذا آپ وہاں سے نکل کر ایک کشتی میں سوار ہو گئے کشتی چلتے چلتے سمندر کے بیچ میں رک گئی وہاں کے لوگوں کی عادت تھی کہ جب کوئی بھاگا وہ غلام کشتی میں سوار ہوتاتو کشتی سمندر کے بیچ میں رک جاتی ملاحوں نے کہا قرعہ اندازی سےظاہر ہو جائے گا کہ وہ کون ہے تین بار قرعہ اندازی کی گئی تو تینوں بار یونس علیہ الصلوۃ والسلام کا نام آیا چنانچہ آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا جیسے ہی آپ کو سمندر میں ڈالا گیا تو ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اسی کو قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (پارہ23،سورۃ الصفت آیت نمبر:141-142)

(3)مچھلی کے پیٹ سے نجات:مچھلی کے پیٹ میں کئی دن گزرنے کے بعد اللہ پاک نے آپ کو کچھ کلمات عطا فرمائے جن کا آپ مچھلی کے پیٹ میں کثرت سے ورد کیا کرتے تھے اور اسی کی برکت سے اللہ تبارک و تعالی نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی اور مچھلی نے آپ کو ایک میدان میں اگل دیا اسی کو اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا:وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (پارہ17، سورہ الانبیآء آیت نمبر: 87ـ88)

(4) ایک اور مقام پر اللہ تبارک و تعالی نے حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کو پیار بھرے انداز میں صبر کرنے کا حکم عطا فرمایا اور اس سے ہمیں بھی سبق ملتا ہے کہ مصیبت آئے تو ہم صبر کریں صبر کا دامن تھامے رکھیں صبر کو کبھی نہ چھوڑیں اور مشکل گھڑی کے اندر اللہ تبارک و تعالی کو یاد کریں جیسا کہ حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام نے مچھلی کے پیٹ میں آیت کریمہ کا ورد کیا اور انہیں مشکل گھڑی سے نجات ملی اسی کو اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا:فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (پارہ 29،سورۃ القلم آیت نمبر: 48ـ50)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جو کچھ ہم نے پڑھا اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مزید قرآن پاک کے واقعات اور انبیاء کرام کی سیرت کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور انبیاء کرام کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ نبی الکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم