محمداشفاق
(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی ،پاکستان)
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔ (سورۃ الانبیاء ،آیت87)
تفسیر صراط الجنان: وَ ذَا
النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ
الانبیاء ،آیت88)
تفسیر صراط الجنان:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗ:تو ہم نے اس کی پکار سن لی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی
اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا
کے کنارے پر پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات
دیتے ہیں جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۷۲۵، ابو
سعود، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۵۳۳، ملتقطاً)
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس ،آیت98)
تفسیر صراط الجنان:اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا
واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا
تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا،
آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا
اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ
تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ
رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو
سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ،
آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر
چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ
اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل
گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے
جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے
کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے
ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا،
پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو
بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ
مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور
عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)
Dawateislami