قرآن پاک اللہ پاک کی آخری کتاب ہے جسے اللہ پاک نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر تمام عالم کی ہدایت کے لیے نازل کیا۔ اس میں کئی انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا جس میں قاری کے لیے زندگی کے کئی مدنی پھول ہیں۔ ان انبیاء میں سے حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں جن کا اس مضمون میں ذکر خیر کیا جائے گا ۔

آپ علیہ السلام کا نام یونس جبکہ القاب ذوالنون اور صاحب الحوت (مچھلی والے) ہیں ۔ آپ علیہ السلام بستی نینوٰی کے نبی تھے۔

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)

آپ علیہ السلام نے انہیں 40 سال تک نیکی کی دعوت دی لیکن انہوں نے قبول نہ کی ۔ آخر کار آپ علیہ السلام عذاب الہی کی خبر دے کر وہاں سے تشریف لے گئے ۔ قوم نے عذاب الہی کے اثار دیکھ کر توبہ کرلی جس کی وجہ سے عذاب الہی نازل نہ ہوا۔

‏ فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ یونس:98)

عذاب نازل نہ ہونے کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو جان کا خطرہ لاحق ہوا تو جان بچانے کی خاطر آپ علیہ السلام نے بغیر حکم الہی کے ہجرت کے لیے دریائے سفر کا قصد کرلیا ۔

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ الصفت:140)

پھر کشتی دریا کے درمیان میں ٹھہر گئی ۔ ان کے یہاں اس کا سبب بھاگا ہوا غلام ہوتا تھا تو انہوں نے غلام کی شناخت کے لیے کئی بار قرعہ اندازی کی تو یونس علیہ السلام کا نام نکلا تو یونس علیہ السلام بھی سمجھ گئے اور انہیں دریا میں ڈال دیا گیا پھر مچھلی نے انہیں نگل لیا۔

‏ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

‏ ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ الصفت:141،142)

لیکن حضرت یونس علیہ السلام اس حالت میں بھی اپنے رب سے غافل نہ ہوئے اور رجوع کرتے رہے ۔ آخر کار اللہ پاک نے ان کی دعا قبول فرما کر انہیں غم و مصیبت سے نجات عطا فرمائی۔

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔(سورۃ انبیاء:87،88)

لیکن ساتھ ہی حضرت یونس علیہ السلام کے لیے یہ بھی فرمایا کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

‏ فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ الصفت:143،144)

یہ بتاتا ہے کہ اگر آج ہم بھی اللہ پاک کی بارگاہ میں رجوع لائیں تو اللہ پاک ہمیں بھی غم و مصیبت و پریشانی اور مہنگائی کے طوفان سے نجات دے گا لیکن ہم نہ داڑھی رکھنے کو تیار ، نہ نماز پڑھنے کے لیے تیار ، نہ حرام چھوڑنے کو تیار ، نہ اللہ اور رسول کی اطاعت کو تیار تو پھر ہم ان مصیبتوں سے کیسے نجات پائیں گے۔ پھر جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو کمزور تھے ۔ اللہ پاک نے ان کے لیے کدو کا پیڑ اگا دیا اور وہ تندرست و توانا ہو گئے ۔

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

‏ ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا ۔اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (سورۃ الصفت:145،146)

پھر اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام کو اسی قوم کی طرف بھیج دیا تو وہ قوم ایمان لائی اور اچھی زندگی گزارنے لگی۔

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ الصفت:147،148)

علامہ عبدالمصطفی اعظمی رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : حضرت یونس علیہ السلام کی مصیبت سے یہ درس ملتا ہے کہ اللہ پاک اپنے خاص بندوں کو کس کس طرح آزماتا ہے لیکن جب وہ صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور نہ ہی رب کی یاد سے غافل ہوتے ہیں تو رب تعالی ان کی نجات کے غیب سے ایسے انتظام فرماتا ہے جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ (عجائب القرآن مع غرائب القرآن 126&127)