اللہ کے آخری نبی ﷺ کو اپنے تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بے حد محبت تھی، لیکن آپ انصارِ مدینہ سے خصوصی محبت فرماتے تھے۔ انصار وہ خوش نصیب صحابہ ہیں جنہوں نے ہجرت کے بعد حضور نبیِّ کریم ﷺ اور مہاجرینِ کرام کا دل و جان سے استقبال کیا، ان کی مدد کی اور اسلام کی خاطر ہر قربانی پیش بھی کی۔ اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے انصار سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا اور امت کو بھی ان سے محبت کرنے کی تعلیم دی۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انصار کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

نبیِّ پاک ﷺ انصار سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا منافقت کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

ایک اور مقام پر حضور اکرم ﷺ نے انصار کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! انصار، ان کی اولاد اور ان کی اولاد کی اولاد کو بخش دے۔ (مسلم، 2 / 322، حدیث: 2501)

حضور نبیِّ کریم ﷺ انصار کے ساتھ نہایت شفقت اور محبت کا معاملہ فرماتے تھے۔ غزوۂ حنین کے موقع پر جب کچھ لوگوں نے مالِ غنیمت کی تقسیم کے بارے میں باتیں کیں تو آپ ﷺ نے انصار کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسولُ اللہ ﷺ کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ؟ (بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)

یہ سن کر انصارِ کرام رضی اللہ عنہم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے عرض کیا: ہم رسولُ اللہ ﷺ پر ہی راضی ہیں۔

حضور اکرم ﷺ نے انصار کی وفاداری اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ پاک ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

یہ حضور نبیِّ کریم ﷺ کی انصار سے بے مثال محبت کا اظہار ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ انصار کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے اور ان کی عزت و محبت کا خاص خیال رکھتے تھے۔

انصارِ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی حضور نبیِّ کریم ﷺ سے بے مثال محبت کی۔ انہوں نے اپنے مال، گھر، زمینیں بلکہ اپنی جانیں بھی اسلام کے لیے قربان کردیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک آنے والے مسلمان انصارِ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب و احترام کرتے رہیں گے۔

حضور نبیِّ کریم ﷺ نے امت کو انصار کے حقوق ادا کرنے اور ان سے محبت رکھنے کی تعلیم دی۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: انصار کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو۔ (بخاری، 2 / 566، حدیث: 3799)

ان تمام احادیث اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبیِّ کریم ﷺ کو انصارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بے حد محبت تھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم تمام صحابۂ کرام خصوصاً انصارِ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھیں، ان کا ادب کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور انصارِ مدینہ سے سچی محبت عطا فرمائے اور ان کے ادب و احترام کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین