پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی انصارِ صحابہ سے محبت بے مثال اور گہری تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ یہ محبت صرف کلامی نہ تھی، بلکہ آپ ﷺ نے ان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اپنی حیاتِ طیبہ میں نمایاں مقام دیا۔

وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے اسلام کی ابتدائی اور کٹھن ترین گھڑی میں نبی ﷺ اور مہاجرین کا ساتھ دیا، انہیں پناہ دی اور اپنے خون سے اسلام کے شجر کو سینچا۔

قرآن مجید میں انصار کی بےمثال قربانیوں کی توصیف کی گئی ہے۔ سورۃ الحشر میں اللہ رب العزت نے ان کا یہ جذبۂ ایثار بیان فرمایا ہے: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

احادیث کی روشنی میں فضیلت: احادیث مبارکہ میں انصار صحابہ کی محبت کو عین ایمان اور ان کی دشمنی کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

جذبۂ وفاداری: نبی ﷺ نے انصار کے بارے میں فرمایا: اگر لوگ ایک وادی (راستے) پر چلیں اور انصار دوسری وادی پر، تو میں انصار کی وادی پر چلوں گا۔(بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

محبوب ترین قوم: آپ ﷺ نے انصار کے حق میں دعا فرمائی: اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما اور انصار کے پوتوں (نواسوں) کی بھی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

سورۂ انفال میں ربِّ کریم کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(۷۴) (پ 10، الانفال: 74) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو ایمان لائے اور مہاجر بنے اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے انہیں پناہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں انکے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

بیان کردہ آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں لکھا ہے: اس آیت میں ان دونوں کے ایمان کی تصدیق اور ان کے رحمتِ الٰہی کے مستحق ہونے کا ذکر ہے۔ اس آیت سے مہاجرین اور انصار کی عظمت و شان بیان کرنا مقصود ہے کہ مہاجرین نے اسلا م کی خاطر اپنے آبائی وطن کو چھوڑ دیا، اپنے عزیز، رشتہ داروں سے جدائی گوارا کی، مال و دولت، مکانات ا ور باغات کو خاطر میں نہ لائے۔ اسی طرح انصار نے بھی مہاجرین کو مدینۂ پاک میں اس طرح ٹھہرایا کہ اپنے گھر اور مال و مَتاع میں برابر کا شریک کر لیا، یہ سچے اور کامل مومن ہیں، ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور جنت میں عزت کی روزی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، 4/ 54)