حضور کی
انصار صحابہ سے محبت از ام ہانی،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
مدینہ منورہ
کے وہ مسلمان جنہوں نے ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ اور مکہ سے آنے والے مسلمان
مہاجرین کی مدد کی انصار کہلاتے ہیں۔ انصار و مہاجرین کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور
لوگوں کو ان کے اتباع کی تلقین کی گئی ہے۔
قرآن مجید میں
جہاں مہاجرین و انصار کا ذکر آیا ہے وہاں انصار سے مراد انصار مدینہ ہیں جو نبی
کریم ﷺ کی نصرت کی بدولت اس لقب سے سرفراز کیے گئے۔ مدنی زندگی میں اگرچہ مسلمانوں
کی یہ دو تقسیمیں تھیں۔ مگر رسول اللہ نے ابتدا ہی سے ان میں بھائی چارہ کرا دیا
تھا۔ غزوہ بدر سے پہلے جب حضور نے صحابہ کرام کو مشورے کے لے جمع کیا تو مہاجرین
نے جان نثارانہ تقریریں کیں۔ اس کے بعد حضور نے انصار کی طرف دیکھا۔ کیونکہ ان سے
معاہدہ تھا کہ وہ صرف اس وقت تلواریں اٹھائیں گے جب دشمن مدینہ پر چڑھ آئیں گے۔
سعد بن عبادہ سردار بنو خزرج نے کہا کہ آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود پڑیں۔
مقداد نے کہا کہ ہم حضرت موسی کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے آپ اور آپ کا خدا
لڑیں۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم تو آپ کے داہنے سے، بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے
لڑیں گے۔ انصار کا تعلق ازد کے دو اہم قبائل بنو خزرج اور بنو اوس سے تھا۔
حضرت براء بن عازب
سے مَروی ہے کہ حضور ﷺ نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا: ان سے مؤمن ہی محبت
رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت فرماتا
ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اسے ناپسند فرماتا ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
اس حدیث پاک
میں صحابہ کرام کی محبت کو اِیمان کی نشانی اور علامت فرمایا گیا ہے اور اُن کی
محبت کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
اللہ پاک نے
ان کی فضیلت، ان سب سے اپنی رضامندی اور اعلیٰ انعام واکرام کو اپنے پاک کلام
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں خود بیان فرمایا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ
مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ
اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا
الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ
11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے
ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر
رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
حضور نبی اکرم
ﷺ کو انصار سے بہت محبت تھی۔ آپ ان کی خوشی پر خوش ہوتے، لوگوں کے سامنے ان سے
محبت کا اظہار فرماتے، ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے تھے۔ اس ضمن میں کچھ احادیثِ
مبارکہ ملاحظہ کیجئے:
ایک مرتبہ
سرکار ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کوایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور
فرمایا: الٰہی تو جانتا ہے، اے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔
الٰہی تو جانتا ہے، اے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/556،
حدیث: 3785)
ارشاد فرمایا:
اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں اَنصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور
انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں
چلوں گا اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116،
حدیث: 4330)
حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض
ہے۔ (بخاری، 1/17، حدیث: 17)
حدیثِ
مذکورمیں انصار کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے بغض کو نفاق کی علامت قرار
دیا گیا ہے۔ اللہ ان سے محبت کرنے والوں کو پسند فرماتا اور اُن کے معاندین کو
ناپسند فرماتا ہے۔ انصار صحابہ کرام سے وہی محبت کرے گا جو کامل مؤمن ہوگا اور ان
سے بغض و ہی رکھے گا جو اعتقادی یا عملی منافق ہوگا۔
اللہ ہمیں
تمام صحابہ کرام کی سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
Dawateislami