کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر جن مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی انہیں مہاجرین کہا جاتا ہے اور مدینہ منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے ان مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں انصار  کہا جاتا ہے۔ اللہ پاک نے ان کی فضیلت، ان سب سے اپنی رضامندی اور اعلیٰ انعام واکرام کو اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں خود بیان فرمایا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

انصار صحابہ کرام کے اوصاف: انصار صحابہ کرام بہت سی خوبیوں کے حامل ہیں مثلا انصار نے دین اسلام کی مدد اور نصرت کی دین اسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوشش کی مہاجرین صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اپنے پاس ٹھہرایا اسلام کی خاطر جانی اور مالی قربانی دی، انصار حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت کرتے تھے اور آپ ﷺ بھی ان سے محبت فرمایا کرتے تھے انصار نے اسلام کی خاطر سب سے دشمنی مول لی وغیرہ وغیرہ۔

ان تمام اوصاف حمیدہ کی بدولت انہیں یہ مقام ملا کہ ان سے محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے بغض کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔

انصار صحابہ کے فضائل پر احادیث مبارکہ:

دو جہاں کے تاجدار سلطان بحرو بر ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرون لباس ہے اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

سارے صحابہ سے محبت کی فضیلت: حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حسن اخلاق کے پیکر ﷺ نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا: ان سے مومن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اسے ناپسند فرماتا ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3783)

انصار سے محبت ایمان کی نشانی: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)