وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

انصار صحابہ سے مراد: انصار سے مراد وہ صحابہ ہیں جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے اور مدینہ میں مہاجر صحابہ کی مدد کی اور انہیں گھر بار دیا تھا وہ انصاری (مدد گار) صحابہ کہلاتے ہیں۔

حضور ﷺ کی انصار سے محبت: نبی کریم ﷺ کو انصار صحابہ سے بہت محبت تھی۔ آپ ان حضرات کے گھر تشریف لے جاتے۔ ان کے مال، اولاد، جان میں خیر و برکت کی دعائیں کرتے اور ان کی دل جوئی بھی فرماتے۔ چنانچہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

سبحان الله انصار سے محبت کو کامل ایمان کی نشانی قرار دیا گیا اور بغض وعداوت کو منافقت کی علامت، یاد رہے کہ حضور ﷺ نے جو ایک بار ارشاد فرما دیا قیامت تک اس کا حکم باقی رہے گا لہذا یہاں ان لوگوں کے لیے مقام عبرت ہے جو صحابہ کے بارے بدگوئی کرتے ان پر طعن کرتے۔(معاذ الله) حضور نے بغض رکھنے والوں کے لیے دعائے ضرر کی کہ اللہ ان سے ناراض ہو۔ معلوم ہوا جس سے حضور ﷺ ناراض اس سے اللہ بھی ناراض۔ (الامان والحفیظ)

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم خدا چاہتا ہے رضائے محمد

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم ﷺ نے کچھ بچوں عورتوں کو دیکھا ایک شادی سے آتے ہوئے تو آپ کھڑے ہوگئے فرمایا: الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو یعنی انصار۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)

دیکھا آپ نے حضور کی انصارسے محبت، حضور ﷺ کو انصار اتنے پیارے ہیں کہ پہلے اللہ کو گواہ بنایا پھر انصار سے خطاب فرمایا۔ یہ کلام صرف انہی لوگوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام انصار سے تھا یعنی مجھے سارے انصار بہت پیارے ہیں۔

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: الٰہی انصار کو انصار کی اولادکو انصار کی اولاد کی اولاد کو بخش دے۔(مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

سبحان الله! کیا شان ہے انصار صحابہ کی کہ حضور ﷺ نے خود ان کی بخشش کی دعا فرمائی اس فرمان عالی سے مراد انصاری صحابہ، تابعین، تبع تابعین یا تا قیامت ساری اولادِ انصار مراد ہے۔ انصار کی عظمت کے کیا کہنے کہ رسول الله ﷺ نے صرف اپنے زمانہ کے انصار کیلئے دعا نہیں فرمائی بلکہ ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد کیلئے بھی بخشش کی دعا فرمائی۔

اللہ پاک انصار کی محبت ہمیں عطا فرمائے تمام صحابہ جنتی ہیں۔ جو صحابہ کا ہے وہ حضور ﷺ کا ہے اور حضور ﷺ اس کے ہیں۔

اہلسنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور

نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی