انصارِ مدینہ وہ خوش نصیب جماعت ہے جنہوں نے حضور اقدس ﷺ کی ہجرت کے بعد نہ صرف آپ ﷺ کا پُرجوش استقبال کیا بلکہ ہر مشکل گھڑی میں آپ ﷺ کا ساتھ دے کر اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کو انصار سے بے حد محبت تھی، کیونکہ انہوں نے اپنے مال، جان اور گھر بار سب کچھ دینِ اسلام کے لیے قربان کر دیا۔ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بھی انصار کے فضائل اور ان سے محبت کی بڑی تاکید آئی ہے۔ حضور ﷺ ان کے اخلاص، وفاداری اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد فرماتے اور ان کے حق میں دعائیں کرتے تھے۔ انصار سے محبت دراصل حضور ﷺ کی سنت اور ایمان کی علامت ہے۔

مدینہ منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں انصار کہا جاتا ہے۔

اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

حضور کی انصار مدینہ سے محبت احادیث کی روشنی میں:

علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی علیہ رحمۃ الله القوی نے انصار سے محبت کے متعلق جو شرح فرمائی اس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:

انصار صحابہ کرام بہت سی خوبیوں کے حامل ہیں مثلاً انصار نے دین اسلام کی مددو نصرت کی دین اسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوشش کی، مہاجرین صحابہ کرام کو اپنے پاس عزت و احترام سے ٹھہرایا اسلام کی خاطر جانی و مالی قربانی دی انصار حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت کرتے تھے اور آپ بھی ان سے محبت فرمایا کرتے تھے انصار بارگاہِ رسالت میں اپنے اموال اور قیمتی جانور پیش کیا کرتے تھے انصار نے اسلام کی خاطر سب سے دشمنی مول لی وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام اوصاف حمیدہ کی بدولت انہیں یہ مقام ملا کہ ان سے محبت کو ایمان کی علامت اور ان کے بغض کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔(بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع امت ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: الہی تو جانتا ہےاے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ الہی تو جانتا ہے اے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/556، حدیث: 3785)

دوجہاں کے تاجور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا انکی گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہ مدینہ ﷺ ارشاد فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (بخاری، 1/17، حدیث: 17)

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ میرے صحابہ رضی الله عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو ا س نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اس کی پکڑ فرما لے۔ (ترمذی، 5/463، حدیث: 3888)

اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی انصارِ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح دینِ اسلام سے محبت، ایثار، اخلاص اور بھائی چارے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں سے محبت اور ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے، کیونکہ یہی کامیاب اور بہترین معاشرے کی پہچان ہے۔