حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت رضوان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
انصار وہ خوش
نصیب ہستی ہیں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی اس وقت مدد کی جب ہر کوئی ان کا
دشمن تھا۔
رسول
اللہ ﷺ کی انصار سے محبت:
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت
ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث:
3784)
انصار
کی بخشش کی دعا: حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی:اے
اللہ! انصار کو، اور انصار کے بیٹوں کو اور انصار کے پوتوں کو بخش دے۔ (مسلم، ص
1044، حدیث: 6414)
انصار
کے ساتھ جینے اور مرنے کی خواہش: غزوہ حنین کے موقع پر جب مالِ غنیمت کی
تقسیم میں انصار کو کچھ نہیں ملا اور ان کے دلوں میں ایک خفیف سا ملال پیدا ہوا،
تو آپ ﷺ نے انصار کو جمع فرمایا اور ان کا دل جیتتے ہوئے ارشاد فرمایا:کیا تم اس
پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم رسول
اللہ ﷺ کو اپنے گھر لے کر واپس چلو؟ اے اللہ! انصار پر، انصار کی اولاد پر اور
انصار کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
حضرت عبداللہ
بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں
انصار میں سے ایک فرد ہوتا، اور اگر لوگ ایک وادی (یا گھاٹی) میں چلیں اور انصار
دوسری وادی میں چلیں، تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
امت
کو انصار کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت: رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے قبل امت
کو انصار کے ساتھ بھلائی کرنے اور ان کی خطاؤں سے درگزر کرنے کی وصیت فرمائی۔ حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:انصار میرے راز دار اور میرے خاص
لوگ ہیں، لوگوں نے تو نیکی کرنی ہے لیکن انصار نے اپنی نیکی پوری کر لی۔ سو تم ان
کے محسنوں سے نیکی قبول کرو اور ان کے برے لوگوں سے درگزر کرو۔ (بخاری، 2/ 560،
حدیث: 3799)
انصار کی اسی
قربانی اور وفاداری کی وجہ سے انہیں اسلام میں ہمیشہ انتہائی بلند اور قابلِ فخر
مقام حاصل رہا۔
اللہ پاک
ہمارے دلوں میں زیادہ سے زیادہ انصار کی محبت عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami