فاحد
علی عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
اللہ رب
العزت نے اس کائنات کی تخلیق فرمائی پھر انبیاء علیہم السلام کو اس کائنات رنگا
رنگ میں ہادی خلق اور دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے کے لیے مبعوث فرمایا یہ
تمام انبیاء علیہم السلام اللہ کے معصوم برگزیدہ اور چنے ہوئے مقرب بندے تھے اور
اعلی صفات، اخلاق اور بہترین اوصاف کے حامل تھے انہی مقدس حضرات میں سے ایک حضرت یونس
علیہ السلام بھی ہیں اللہ تعالی نے حضرت یونس علیہ السلام کو بھی بے شمار عمدہ
اوصاف سے موصوف فرمایا آئیے حضرت یونس علیہ السلام اور قرآن پاک سے ان کے بارے میں
پڑھیے اور علم و عمل میں اضافہ کیجئے:
(1) مچھلی کے پیٹ میں رہنا:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار
تھا۔(سورۃ الصفت:143تا 145)
تفسیر
صراط الجنان:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ: تو اگر وہ تسبیح کرنے
والا نہ ہوتا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس
علیہ السلام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت
کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔( صراط الجنان: پارہ: 23 سورۃ صافات: آیت
نمبر:143تا145 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(2) بے شک مجھ سے بے جا ہوا:وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ
میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ
کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ انبیاء )
تفسیر
صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے ۔(صراط الجنان: پارہ
:17 سورۃ الانبیاء: ایت نمبر: 87 مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
(3) غم سے نجات بخشی:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنز الایمان:
تو ہم نے
اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔
تفسیر صراط الجنان:
{فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗ:تو ہم نے اس کی پکار سن لی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی
اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا
اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات دیتے ہیں جب وہ ہم سے
فریاد کریں اور دعا کریں۔
(کتاب
صراط الجنا ن: پارہ :17 ٫٫سورۃ الانبیاء: آیت نمبر:88 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(4)بھڑی کشتی کی طرف نکلنا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔
(پارہ :23
٫٫سورۃ صافات: آیت نمبر:139تا140)
(5) رسوائی کا عذاب: فَلَوْ لَا كَانَتْ
قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ
اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی
کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے
رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔
(پارہ:11 ٫سورۃ یونس٫آیت نمبر:98)
اللہ پاک
ہمیں انبیاء علیہم السلام کی سیرت پر پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ
خاتم النبیینﷺ۔
Dawateislami