انصار صحابہ
وہ خوش نصیب مسلمان ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ اور مہاجرین کو مدینہ پاک میں جوش و
خروش کے ساتھ خوش آمدید کہا اور مہاجرین کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ نبی کریم ﷺ انصار
سے بہت محبت فرماتے تھے اور ان کے لیے اکثر دعا بھی فرماتے تھے۔ انصار اپنا جان،
مال، عزت، آبرو، گھر بار سب نبی کریم ﷺ کے ایک فرمان پر لٹانے کے لیے ہر وقت تیار
رہتے تھے۔
جب مسلمان مکہ
سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو انہوں نے اپنی زمین اور اپنا سارا سامان اپنے مہاجر
بھائیوں کے ساتھ آدھا آدھا تقسیم کر لیا۔ اس بے مثال محبت اور آثار کو دیکھ کر نبی
کریم ﷺ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے انصار اور مہاجرین کے درمیان اخوت و بھائی چارے کا
رشتہ قائم کیا تاکہ محبت اور اتحاد مزید مضبوط ہو جائے۔
نبی اکرم ﷺ انصار
سے بہت محبت فرماتے تھے اور جن سے نبی کریم ﷺ محبت فرماتے تھے، ان سے اللہ پاک بھی
محبت فرماتا ہے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر صحابہ کرام کے ساتھ
بہترین اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ آئیے چند آیات مبارکہ کا ترجمہ ملاحظہ فرماتے ہیں: وَ السّٰبِقُوْنَ
الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ
لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ
الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں
اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی
اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں
ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
پارہ 9 سورہ
انفال کی آیت نمبر 4 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ
حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ(۴)ترجمہ
کنزالایمان: یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے ہاں اور بخشش اور
عزت کی روزی۔
ان آیات
مبارکہ سے صحابہ کرام کی فضیلت واضح ہوتی ہے اور ان کو یہ فضیلت آقا علیہ الصلوۃ
والسلام سے محبت کی نسبت سے ملی۔
نمایاں
ہے اسلام کے گلستان میں ہر اک گل
پہ رنگِ بہارِ صحابہ
حضور اکرم ﷺ نے
کئی موقع پر انصار کی فضیلت بیان فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی
علامت اور انصار سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)اس حدیث
مبارکہ سے نبی کریم ﷺ کی انصار صحابہ سے محبت واضح ہوتی ہے۔
غزوہ حنین کے
موقع پر جب مال غنیمت کی تقسیم کی گئی تو کچھ صحابہ کرام کے دل میں خیال آیا کہ
نبی کریم ﷺ نے مال غنیمت زیادہ تو دوسرے لوگوں کو دے دیا ہے جبکہ جنگ تو ہم نے لڑی
ہے تو ہم زیادہ حقدار ہیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو ایک وادی میں بلایا اور
فرمایا: اے انصار! کیا تم راضی نہیں کہ لوگ دنیا کا مال لے جائیں اور تم اللہ اور
اس کا رسول ساتھ لے جاؤ؟ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ انصار صحابہ کی آنکھیں
اشکبار ہو گئیں اور انہوں نے عرض کیا: ہم اللہ کے رسول پر ہی راضی ہیں۔ (بخاری، 2
/ 564، حدیث: 4330)یہ منظر حضور ﷺ اور صحابہ کے درمیان محبت کی بہترین مثال ہے۔
غرض یہ کہ
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور نبی کریم ﷺ بھی
صحابہ کرام سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر جب کچھ انصار صحابہ کو
لگا کہ نبی کریم ﷺ اب مکہ میں ہی مقیم ہو جائیں گے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری
زندگی تمہاری زندگی ہے اور میری موت تمہاری موت ہے۔ اس سے انصار صحابہ کی آنکھیں
اشکبار ہو گئیں۔
نبی کریم ﷺ انصار
صحابہ سے بہت محبت فرماتے تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کی ظاہری زندگی کے آخری ایام چل
رہے تھے تو نبی کریم ﷺ اس وقت بھی انصار کے بارے میں وصیت فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
میرے بعد لوگ خود کو انصار صحابہ پر ترجیح دیں گے لہذا تم ان کے نیک لوگوں کی قدر
کرنا اور ان کی لغزشوں کو معاف کرنا۔ اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ
انصار سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اسی لیے تو وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں
انصار کے بارے میں وصیت فرما رہے تھے۔
تمام دلائل سے
یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام سے بہت محبت فرماتے تھے، بالخصوص انصار
صحابہ سے۔
اللہ پاک نبی
کریم ﷺ کے صدقے ہمیں انصار صحابہ کی محبت نصیب فرمائے اور ان کی محبت کو ہمارے لیے
ذریعہ نجات بنائے۔ آمین
اللہ پاک کا
ارشاد ہے: ت وَ السّٰبِقُوْنَ
الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ
لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ
الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں
اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی
اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں
ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
انصار سے محبت
نہیں کرتا مگر مؤمن اور ان سے بغض نہیں رکھتا مگر منافق، جو ان سے محبت کرتا ہے
اللہ ان سے محبت کرتا ہے، اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ (بخاری،
2/ 555، حدیث: 3783)
آقا جان ﷺ نے
فرمایا: اگر لوگ ایک گھاٹی یا وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں
انصار کی وادی میں چلوں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
مکی مدنی
مصطفی جن پر ہماری جان قربان انہوں نے انصار کیلئے دعا فرمائی: اے اللہ انصار پر
رحم فرما اور انصار کی اولاد پر رحم فرما، اور انصار کی اولاد کی اولاد پر رحم
فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
غزوہ حنین کے
بعد ایک محبت بھرا واقعہ پیش آیا جس میں آقا جان ﷺ کی انصار سے محبت واضح ہوتی ہے۔
جب مال غنیمت تقسیم ہوا تو آقا جان ﷺ نے نئے مسلمان ہونے والے بعض قریش کو زیادہ
عطا فرمایا۔ اس سے بعض انصار صحابہ کے دل میں یہ خیال آیا کہ شاید اپنی قوم کو
زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ بات جب آقا جان ﷺ تک پہنچی تو آقا جان ﷺ نے انصار
صحابہ کو ایک خیمے میں جمع فرمایا اور نہایت شفقت سے خطاب فرمایا: کیا تم اس پر
راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھر لے
جاؤ؟ اللہ کی قسم جو تم لے کر جا رہے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر جا رہے ہیں۔
یہ سن کر
انصار صحابہ رو پڑے یہاں تک کے ان کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہوگئیں اور انہوں نے
عرض کی: ہم اللہ کے رسول ﷺ ہی پر راضی ہیں۔(بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)
سبحان اللہ
آقا جان ﷺ کی انصار صحابہ سے محبت کی کیا بات ہے! انصار بنیادی طور پر دو بڑےقبا
ئل پر مشتمل تھے۔ 1۔اوس 2۔خزرج۔
یہ دونوں
قبائل مدینہ میں آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں خاص طور پر
جنگ بعاث مشہور ہے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد یہ دونوں بھائی بھائی بن گئے اور قرآن
پاک میں بھی انصار صحابہ کی تعریف آئی ہے۔
ہم نے جانا کہ
آقا جان ﷺ کس قدر انصار صحابہ سے محبت فرما تے تھے۔اللہ پاک ہمیں بھی مکی مدنی
مصطفی ﷺ کی اس سنت پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے اور ہم اپنے اچھے، نرم، پاک
دل سے انصار صحابہ کرام سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ آمین
انصار صحابہ
وہ صحابہ ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ایک فرمان پر اپنے مہاجر بھائیوں کے ساتھ
اخوت کا رشتہ قائم کیا۔ جب مسلمان مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو وہ بےسر و سامانی
کی حالت میں مدینہ پہنچے نبی کریم ﷺ نے انصار صحابہ کرام کو بلایا اور ان سے
فرمایا: یہ تمہارے بھائی ہیں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان تھا کہ وہ سارے آپس میں بھائی
بھائی بن گئے ۔ نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کر
دیا ان دونوں کے درمیان ایسا رشتہ قائم ہوا جو دو سگے بھائیوں سے بڑھ کر تھا انصار
نے اپنی ہر ہر چیزمہاجر صحابہ کے ساتھ آدھی آدھی کر لی اور ان کو اپنی ہر چیز میں
مکمل ساجیداری اختیار کرنے کا حق دیا۔
حضور کی صحابہ
سے محبت بے لوث اور بے مثالی تھی انصار صحابہ بھی نبی کریم ﷺ کے ایک اشارے پر اپنا
گھر بار، مال سب کچھ لٹا دیتے۔ حضور کے صحابہ امت کے بہترین افراد ہیں اللہ پاک نے
ان کی فضیلت قرآن پاک میں بیان فرمائی ہے اس سے بڑھ کر ان کی فضیلت اور کیا ہوگی
کہ اللہ پاک نے ان کے اوصاف حمیدہ قرآن میں ذکر کیے ہیں۔ آئیے چند آیات مبارکہ کا
ترجمہ ملاحظہ فرماتے ہیں: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ
وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ
وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ
فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ:
100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے
پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں
باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
اللہ نے سب
صحابہ سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ
الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ
بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرٌ۠(۱۰) (پ
27، الحدید:10) ترجمہ کنز العرفان: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل
خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبے میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا
اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
ان تمام آیات
سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قطعی جنتی ہیں۔ ان سب کو یہ فضیلت آقا علیہ الصلوۃ
والسلام سے محبت کی بدولت ملی حضور بھی صحابہ کرام سے بہت محبت فرماتے تھے بالخصوص
انصار صحابہ سے۔غزوات میں کوئی انکا ہم سر ہوتا نہ ان کی کوئی مثال ہوتی نبی کریم ﷺ
نے انصار کے ساتھ جو محبت و بھائی چارے کا رشتہ قائم کیا وہ تاریخ کا ایک ناقابل
فراموش باب ہے۔آئیے حضور کی انصار صحابہ سے محبت کے ضمن میں کچھ حدیث مبارکہ
ملاحظہ فرماتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555،
حدیث: 3784)
ایک اور جگہ
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے دشمنی نہ
رکھے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی تو اللہ پاک اس سے محبت کرے گا اور جس
نے ان سے بغض رکھا اللہ پاک اس سے ناراض ہو۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
حضور کی صحابہ
کرام سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کتب حدیث میں کثیر تعداد میں حدیث مبارکہ صحابہ
کرام کی محبت، ان کی قربانیاں، ان کا عشقِ رسول، ان کا خوفِ خدا مختصر یہ ہے کہ بے
شمار حدیث مبارکہ صحابہ کرام کے لیے وارد ہیں۔ ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر
لوگ ایک جنگل یا گھاٹی میں چلیں اور انصار ایک جنگل یا گھاٹی میں چلیں تو میں
انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ
بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
مرات شریف میں
ہے: یعنی اگر تمام جہاں کی رائے ایک ہو اور انصار کی رائے دوسری ہو تو میں انصار
کی رائے کے موافق رائے دوں گا تمام کی راہوں پر انصار کی رائے کو ترجیح دوں گا یہ
مطلب نہیں کہ میں انصار کی اتباع کروں گا سارا جہاں حضور کی پیروی کرنے والا ہے۔
دعائے
مصطفیٰ: اے
اللہ انصار کی اور ان کے بیٹوں اور پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث:
6414)
انصار صحابہ
جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی ان کو مہاجر صحابہ کہا جاتا ہے اور جن صحابہ نے
مدینہ میں ان مہاجر صحابہ کی مدد کی انہیں گھر بار دیا تھا وہ انصاری صحابہ کہلاتے
ہیں۔
مسجد نبوی کی
تعبیر کے بعد ایک دن حضور ﷺ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و
مہاجرین کو جمع فرمایا اس وقت تک مہاجرین کی تعداد 40 یا 50 تھی حضور نبی کریم ﷺ نے
انصار کو مخاطب کر کے فرمایا: یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں پھر مہاجرین و انصار
میں سے دو دو کو بلا کر فرمایا یہ اور تم بھائی بھائی ہو نبی کریم ﷺ کے ارشاد فرمانے
سے یہ رشتہ اخوت بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا چنانچہ انصار نے مہاجرین کو
ساتھ لے جا کر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ
ہمارے بھائی ہیں اس لیے ان سب سامان میں سے آدھا تمہارا اور آدھا میرا ہے۔ (بخاری،
2/ 554، حدیث: 3780)
انصار
کے فضائل:
احادیث مبارکہ میں بھی انصار کے فضائل و مناقب ہوتے ہیں چنانچہ حضرت انس رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا
تو حضور پرنور ﷺ کھڑے ہو گئے اور (دو بار) ارشاد فرمایا: اے انصار! تم لوگ مجھے
تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو اے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگو سے زیادہ پیارے ہو۔
(بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)
ایک آیت مبارکہ
بھی ملاحظہ فرمائیے:
وَ اذْكُرُوْا
نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ
اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ
فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ- (پ 4، آل
عمران: 103) ترجمہ کنز العرفان: اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک
دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملا پیدا کر دیا بس اس کے فضل سے تم آپس
میں بھائی بھائی بن گئے۔
مسلمان کو
جہنم کی آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا مجھے دیکھنے والے یعنی صحابہ کو دیکھا۔
انصار
صحابہ سے محبت ایمان کی نشانی: رسول اللہ ﷺ نے انصار سے محبت کو ایمان
کا معیار قرار دیا اور ان سے بغض کو منافقت کی علامت بتا دیا، حضرت انس بن مالک
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت
اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
انصار
سے محبت کرنے والا اللہ تعالی کا محبوب: آپ ﷺ نے انصار سے محبت کرنے
والوں کے لیے اللہ کی محبت کی ضمانت دی ہے، حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف
منافق ہی بغض رکھے گا جو شخص ان سے محبت کرے گا اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو ان
سے بغض رکھے گا اللہ ان سے ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
انصار جن
صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ان صحابہ کرام کو مہاجر اور صحابہ کرام نے
مدینہ میں ان مہاجر صحابہ کی مدد کی تھی انہیں گھر بار دیا انہیں انصار (مدگار)
صحابہ کہتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ
نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ
كَرِیْمٌ(۷۴)
(پ 10، الانفال: 74) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو ایمان لائے اور مہاجر بنے اور
اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے انہیں پناہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے
ہیں انکے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔
بیان کردہ آیت
مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں لکھا ہے: اس آیتِ کریمہ میں دونوں کے ایمان
کی تصدیق اور رحمت الٰہی کے مستحق ہونے کا ذکر ہے۔اس آیت مبارکہ میں مہاجرین اور
انصار کی اہمیت و فضیلت بیان کرنا مقصود ہے کہ مہاجرین نے دین کی خاطر اپنے آبائی
وطن کو چھوڑا اپنے عزیز رشتے داروں سے جدائی گوارا کی مال و دولت مکانات اور باغات
کو خاطر میں نہ لائے اسی طرح انصار صحابہ نے بھی مہاجرین کو اس طرح ٹھہرایا کہ
اپنے گھر اور مال و متاع میں برابر کا شریک کر لیا۔یہ سچے اور کامل مومن ہیں۔ان کے
لئے گنا ہوں سے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، 4/54)
احادیث
کی روشنی میں انصار صحابہ کی اہمیت:
آپ ﷺ نے
فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت اور منا فقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (بخاری،
2/555، حدیث: 3784)
آپ ﷺ نے اپنی
وفات سے قبل ایام میں مسلمانوں کو انصار کے ساتھ حسن سلوک کی نصیحت فرمائی۔ لوگو!
انصار کے ساتھ محبت کرنا اور انکی خطاؤں سے درگزر کرنا۔(بخاری، 2/ 560، حدیث: 3799)
انصار
کے لیے خصوصی دعا: آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کے بیٹوں اور پوتوں
کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
حضرت انس بن
مالک سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری
وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار
میں سے ایک فرد ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
قرآن وحدیث کی
روشنی میں انصار سے محبت صرف ایک جذباتی تعلق نہیں بلکہ ایک ایمانی تقاضا ہے، کیونکہ
انہوں نے جو دین کی خدمت کی وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ
ہےغزوہ حنین کے موقع پر جب لوگوں کو مال غنیمت دیا گیا تو انصار صحابہ میں کچھ
تشویش پیدا ہوئی تو آپ ﷺ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور محبت بھرے انداز میں فرمایا
کہ۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے جائیں اور تم اللہ کے
رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟ یہ سن کر انصار کی آنکھوں میں آنسوں جاری ہو گئے اور
کہنے لگے ہمارے لئے اللہ کے رسول ہی کافی ہیں۔(بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)
ایک مسلمان
ہونے کے حیثیت سے انصار صحابہ سے محبت ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے انصار صحابہ سے
محبت کا مطلب ہے کہ ہم انکے مثالی کردار کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں اور اگر
کسی مسلمان بھائی کو یا دین کو ہماری ضرورت ہو تو ہمیں اللہ کی رضا کی خاطر ان کی
مدد کریں انصار صحابہ والا جذبہ اپنے اندر پیدا فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ
کی ان پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں اور انکے صدقے ہمیں بھی اپنے اندر اخوت و بھائی
چارہ پیدا کرنے توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
اللہ تعالیٰ
نے صحابہ کرام کو امت مسلمہ میں سب سے افضل مقام عطا فرمایا اور صحابہ کرام میں
انصار صحابہ کو ایک خاص فضیلت حاصل ہے۔ تاریخ اسلام میں انصار صحابہ کا مقام و
مرتبہ بہت بلند و بالا ہے۔ یہ وہ خوش نصیب ہستیاں ہیں جنہوں نے مہاجرین مکہ کو
اپنے گھر، مال اور جان سے پناہ دی، ان کی مدد کی اور خود سے بڑھ کر ان کو عزت دی۔
ان حضرات کا
محبت رسول کا جذبہ اس قدر خالص تھا کہ قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ میں ان
کی تعریف کی گئی۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ الَّذِیْنَ
تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ
اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ
یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ
یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر:
9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ
بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے
متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں
اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب
ہیں۔
اس آیت مبارکہ
میں انصار صحابہ کرام کی انتہائی مدح و ثنا کی گئی ہے۔ اس میں انصار کی محبت،
ایثار اور اخلاص کو بیان کیا گیا آقا کریم ﷺ انصار صحابہ کرام سے بے حد محبت
فرماتے تھے۔آپ ﷺ کی کئی احادیث میں انصار صحابہ کی فضیلت کا بیان ہے۔
چنانچہ حدیث
مبارکہ میں ہے: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان سے بغض منافقت کی نشانی ہے۔(بخاری،
2/555، حدیث: 3784)
اس حدیث
مبارکہ سے معلوم ہوا کہ انصار صحابہ سے محبت درحقیقت ایمان کامل کا حصہ ہے۔ ایک
اور مقام پر حضور اکرم ﷺ نے انصار صحابہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر
لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری میں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ (بخاری،
3/116، حدیث: 4330)
اس حدیث
مبارکہ میں حضور ﷺ کی انصار صحابہ سے محبت کا بیان ہے۔ گویا نبی اکرم ﷺ فرما رہے
ہیں کہ انصار کی وفاداری،اخلاص اور قربانی ایسی ہے کہ میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوں
اور یہ انصار صحابہ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔
غزوہ حنین کے
موقع پر بھی جب مال غنیمت تقسیم ہوا تو نو مسلموں کو زیادہ مال دیا گیا۔ اس پر بعض
انصار کے دل میں خیال آیا کہ شاید ہمیں کم حصہ ملا۔اس پر حضور نے انصار صحابہ کو
جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں
لے جائیں جبکہ تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟ یہ سن کر انصار زار و قطار
رونے لگے اور عرض کیا: ہم اللہ کے رسول پر ہی راضی ہیں۔ (بخاری، 2 / 564، حدیث:
4330)
اس واقعے سے
ظاہر ہوا کہ انصار صحابہ کی محبت دنیا کے مال و اسباب سے نہیں,بلکہ حضور ﷺ کی ذات
اقدس سے تھی۔حضور ﷺ نے بھی ان سے محبت کا اظہار فرما کر ان کو شرف بخشا۔
انصار صحابہ
اسلام کی تاریخ کے روشن ستارے ہیں۔ان کا کردار، مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ان کی
قربانیاں دین اسلام کے لیے بہت زیادہ ہیں۔ ان کی قربانیوں اور آقا ﷺ سے مخلصانہ
محبت کی وجہ سے آقا ﷺ نے بے شمار مقامات پر ان کی تعریف فرمائی اور ان کے لیے
دعائیں بھی فرمائیں۔
ایک مقام پر آقا
ﷺ نے انصار صحابہ کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! انصار پر رحم فرما ان کے
بیٹوں پر رحم فرما اور ان کے پوتوں پر رحم فرما۔
ایک اور مقام
پر ارشاد فرمایا: اے اللہ! انصار اور ان کی اولاد اور ان کی آنے والی نسلوں کو بخش
دے۔(مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
انصار صحابہ
کے اعمال کی وجہ سے قرآن کریم میں بھی ان کا اجر بیان کیا گیا چنانچہ ارشاد ربانی
ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ
الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ
لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ
الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں
اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی
اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں
ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
ان آیات کریمہ
اور احادیث مبارکہ سے ہمیں انصار صحابہ کا مقام و مرتبہ پتا چلتا ہے۔
یہ صحابہ
تاریخ اسلام کے روشن ستارے ہیں۔ ہمیں ان کی پیروی کرنی چاہیے۔آقا ﷺ نے اپنے تمام
صحابہ کو ستاروں کی مانند فرمایا۔تو ہم ان ستاروں کی پیروی کر کے ہی ہدایت اور
حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں
تمام صحابہ کرام سے محبت کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
صحابی
کی تعریف: حضرت
علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: جن خوش نصیبوں نے ایمان کی
حالت میں اللہ کریم کے پیارے نبی ﷺ سے ملاقات کی ہو اور ایمان ہی پر ان کا انتقال
شریف ہوا، اُن خوش نصیبوں کو صحابی کہتے ہیں۔ (نخبۃ الفكر، ص 111)
آپ ﷺ نے ہر
مومن سے محبت فرمائی، لیکن انصار صحابہ کرام (مدینہ کے مددگار) سے آپ ﷺ کی محبت کا
ایک خاص رنگ تھا۔ انصار وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنے گھر، مال
اور جان کی قربانی دی، اور ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کو اپنے سینے سے لگایا۔
صحابہ
کرام کی قدرومنزلت: صحابہ کرام کی قدروقیمت وہی انسان جاں سکتا ہے جو
نبیِ کریم ﷺ کی عظمت و رفعت سے واقف ہوگا۔صحابہ کی تعظیم گویا نبیِ پاک ﷺ کی تعظیم
ہے۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ
رَضُوْا عَنْهُؕ- (پ
30، البینۃ: 8) ترجمہ کنز الایمان: اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی۔
انصار
صحابہ سے محبت: آپ
ﷺ اپنے تمام صحابہ سے محبت فرماتے تھے لیکن انصارِ مدینہ سے آپ ﷺ کو خاص محبت تھی
کیونکہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد ہر مشکل وقت میں کی۔ انہوں نے حضور
اکرم ﷺ کا ساتھ دیا، مہاجرین کو اپنے گھروں میں جگہ دی اور اسلام کی خاطر اپنی جان
و مال قربان کر دی۔ اسی اخلاص اور قربانی کی وجہ سے نبی کریم ﷺ انصار سے بے حد
محبت فرماتے تھے۔
حضرت ابو سعید
خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے
صحابہ کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ (ان کی شان یہ ہے کہ) تم میں سے کوئی
اُحد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کر دے تو وہ صحابہ میں سے کسی کے ایک مُد بلکہ ا س
کے نصف (خیرات کرنے) تک نہیں پہنچ سکتا۔ (بخاری، 2/522، حدیث: 3673)
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی: رسول اللہ ﷺ نے انصار کی فضیلت اور ان
سے اپنی محبت کو ایمان و نفاق کی کسوٹی قرار دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار سے
محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق (منافقت) کی نشانی ہے۔ (بخاری،
1/522، حدیث: 3673)
قرآن
مجید میں انصار کی تعریف: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ
قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ
صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ
لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر:
9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ
بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے
متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں
اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب
ہیں۔
یہ آیت انصار
کے ایثار، محبت اور بھائی چارے کو ظاہر کرتی ہے۔
نبی
کریم ﷺ کی دعا: آپ
ﷺ نے انصار کے لیے دعا فرمائی:اے اللہ! انصار، ان کی اولاد اور ان کی آنے والی
نسلوں پر رحم فرما۔
محبت
کے چند واقعات: حضرت
سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ کی بےپناہ محبت تھی، جنہوں نے حضرت
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی دولت آدھی بانٹ لی تھی۔
حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ، جو آپ ﷺ کے خاص خادم تھے، ان کے لیے آپ ﷺ نے برکت کی دعائیں
فرمائیں اور ان سے محبت فرماتے تھے۔
حضرت سعد بن
معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر آپ ﷺ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی اور
فرمایا کہ ان کی وفات سے عرشِ الٰہی کانپ اٹھا ہے۔
صحابہ
وہ صحابہ جن کی ہر دن عید ہوتی تھی
خدا
کا قرب حاصل تھا نبی کی دید ہوتی تھی
حضور ﷺ سے
محبت کا تقاضا یہی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کی جائے جن سے حضور ﷺ
محبت فرماتے ہیں۔اللہ کریم ہمیں دل و جان، زبان و قلم سے ہر صحابی کی تعظیم کرنے
کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور جنّت میں ان
کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ ِالنبی الامین
انصار عربی
لفظ نَصَرَ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں مدد کرنے والے۔ جب مکہ مکرمہ میں کفار نے
مسلمانوں پر ظلم بڑھا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت
فرمائی۔ مدینہ کے مسلمانوں نے نہ صرف آپ ﷺ کا استقبال کیا بلکہ اپنے گھر، مال،
باغات اور کاروبار تک مہاجرین کے ساتھ بانٹ دیے۔ اسی وجہ سے وہ انصار کہلائے، ان
کی مدد، وفاداری، اسلام کی خاطر قربانی اور اخلاص کی وجہ سے نبی کریم ﷺ انصار سے
بے حد محبت فرماتے تھے۔
آپ ﷺ انصار کے
بچوں سے بھی شفقت و محبت فرماتے، آپ ان کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور ان کے ساتھ
حسنِ سلوک فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی محبت صرف انصار کے بڑوں
تک محدود نہ تھی بلکہ ان کے خاندانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی: رسول اللہ ﷺ نے قیامت تک آنے والے
مسلمانوں کو یہ تعلیم دی کہ انصار سے محبت رکھو، کیونکہ ان سے محبت دراصل رسول
اللہ ﷺ سے محبت کی علامت ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ
کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض منافقت کی
نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
حضرت زید بن ارقم
بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، انصار کے
بیٹوں کی مغفرت فرما، انصار کے پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
قرآن پاک میں
بھی انصار صحابہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ
وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا
یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى
اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ
فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں
نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت
کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے
جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو
اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔
ایک اور جگہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ
وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ
وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ
فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ:
100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے
پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں
باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
انصار کا مطلب
مدد گار ہے، انصار مدینہ کے وہ مسلمان ہیں جنہوں نے مہاجرین کو اپنے شہر میں
ٹھکانہ دیا اور نبی کریم ﷺ کی مدد کی۔
حضور ﷺ کو
انصار صحابہ سے محبت تھی آپ ان کی خوشی میں خوش ہوتے اور لوگوں کے سامنے ان کی
محبت کا اظہار فرماتے ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے تھے۔
حضور
کا انصار صحابہ سے پیار: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
حضور ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور
فرمایا: الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو
الہی تو جانتا ہے اے انسان تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/ 556،
حدیث: 3785)
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک جنگل
میں چلے اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا
گھاٹی میں چلوں گا اور انسان اندرونی لباس ہے اور باقی لوگ بیرونی لباس۔ (بخاری، 3/116،
حدیث: 4330)
انصار
سے محبت کی فضیلت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض
ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
نبی کریم ﷺ کی
صفات سے ایک صفت محبت ہے جو ایک عظیم صفت ہے۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام بچوں اور
صحابہ سے محبت فرماتے تھے، آئیے آقا کے صحابہ سے محبت کا واقعہ پڑھتے ہیں حضرت
عبداللہ بن مغل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صحابہ کے
متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے
محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے
بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اس نے اللہ
پاک کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تقلید دی تو قریب ہے اللہ پاک اسے پکڑے۔
صحابہ کرام
کتنے خوش ہیں کہ انہوں نے کئی مرتبہ دنیا میں پیارے آقا ﷺ کی زیارت کی آپ اپنے ہر
امتی سے محبت کرتے ہیں لیکن بات کی جائے صحابہ کی اور پھر ان میں بھی انصار صحابہ
کی تو آپ ان سے محبت کرتے ہیں اور صحابہ کرام بھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔
اگر خوش قسمتی
سے کبھی صحابہ کرام کو رسول اللہ کی ضیافت و مہربانی کا شرف حاصل ہو جاتا تو وہ
نہایت عزت و محبت اور ادب و احترام کے ساتھ اس شرف کو بجا لاتے تھے۔ ایک بار ایک
انصاری نے خدمت مبارک میں گزارش کی کہ میں نہایت لحیم و شہیم آدمی ہوں آپ کے ساتھ
نماز میں شریک نہیں ہو سکتا آپ میرے مکان پر تشریف لا کر نماز ادا فرمائیں تاکہ
میں اس طرح نماز پڑھا کروں،انہوں نے پہلے کھانا بھی تیار کر رکھا تھا چنانچہ آپ
تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔
آپ حضرت عمر
اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت ابو ہیثم بن تیہان الانصاری رضی اللہ
عنہ کے مکان پر تشریف لے گئے وہ باہر گئے ہوئے تھے آئے تو آپ سے لپٹ گئے اور قربان
ہونے لگے پھر سب کو باغ میں لے گئے فرش بچھایا اور کھجوریں توڑ کر آپ کے سامنے رکھ
دیں خود دست مبارک سے چن چن کر تناول فرمائی اس کے بعد اٹھے اور بکری ذبح کی اور
سب نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔ (ترمذی، 4/163، حدیث: 3276)
انصار صحابہ سے
محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے انصار سے محبت نہ کرے گا مگر
مومن اور ان سے دشمنی نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی اللہ پاک اس سے
محبت کرے اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ پاک اس سے ناراض ہو۔(بخاری، 2/ 555، حدیث:
3783)
مہاجرین وہ
انصار مدینے شریف کے گرد خندق کھود نے میں مصروف تھے تو نبی کریم ﷺ نے یہ دعا
مانگی: اے اللہ بھلائی نہیں مگر آخرت کی بھلائی پس انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔
(بخاری، 2/264، حدیث: 2835)
ایک بار آپ ﷺ نے
فرمایا: انصار کے خاندانوں میں سب سے افضل بنو نجار ہے، پھر بنو عبدالا شہل،پھر
بنو حارث بن اہرج،پھر بنو ساعدہ ان کے علاوہ انصار کے تمام خاندان اچھے ہیں۔حضرت
سعد بن عبادہ قبیلہ بنو ساعدہ سے تھے ان کو جب معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ان کے قبیلے
کو چوتھے نمبر پر رکھا ہے تو ان کو کسی قدر ناگوار ہوا بولے میرے گدھے پر زین کسو
میں خود رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق گفتگو کروں گا،لیکن ان کے بھتیجے حضرت ساحل
رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ رسول اللہ کی تردید کے لیے جاتے ہیں؟ حالانکہ حضور ﷺ وجوہ
فضیلت کے سب سے زیادہ عالم ہیں یہ کیا کم ہے کہ آپ کا چوتھا نمبر ہے۔ (مسلم، ص
1361، حدیث: 2511)
اللہ پاک ہمیں
پیارے آقا ﷺ اور آپ کے اصحاب اور آپ کے اہل بیت کی حقیقی محبت عطا فرمائے۔
Dawateislami