انصار جن
صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ان صحابہ کرام کو مہاجر اور صحابہ کرام نے
مدینہ میں ان مہاجر صحابہ کی مدد کی تھی انہیں گھر بار دیا انہیں انصار (مدگار)
صحابہ کہتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ
نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ
كَرِیْمٌ(۷۴)
(پ 10، الانفال: 74) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو ایمان لائے اور مہاجر بنے اور
اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے انہیں پناہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے
ہیں انکے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔
بیان کردہ آیت
مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں لکھا ہے: اس آیتِ کریمہ میں دونوں کے ایمان
کی تصدیق اور رحمت الٰہی کے مستحق ہونے کا ذکر ہے۔اس آیت مبارکہ میں مہاجرین اور
انصار کی اہمیت و فضیلت بیان کرنا مقصود ہے کہ مہاجرین نے دین کی خاطر اپنے آبائی
وطن کو چھوڑا اپنے عزیز رشتے داروں سے جدائی گوارا کی مال و دولت مکانات اور باغات
کو خاطر میں نہ لائے اسی طرح انصار صحابہ نے بھی مہاجرین کو اس طرح ٹھہرایا کہ
اپنے گھر اور مال و متاع میں برابر کا شریک کر لیا۔یہ سچے اور کامل مومن ہیں۔ان کے
لئے گنا ہوں سے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، 4/54)
احادیث
کی روشنی میں انصار صحابہ کی اہمیت:
آپ ﷺ نے
فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت اور منا فقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (بخاری،
2/555، حدیث: 3784)
آپ ﷺ نے اپنی
وفات سے قبل ایام میں مسلمانوں کو انصار کے ساتھ حسن سلوک کی نصیحت فرمائی۔ لوگو!
انصار کے ساتھ محبت کرنا اور انکی خطاؤں سے درگزر کرنا۔(بخاری، 2/ 560، حدیث: 3799)
انصار
کے لیے خصوصی دعا: آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کے بیٹوں اور پوتوں
کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
حضرت انس بن
مالک سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری
وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار
میں سے ایک فرد ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
قرآن وحدیث کی
روشنی میں انصار سے محبت صرف ایک جذباتی تعلق نہیں بلکہ ایک ایمانی تقاضا ہے، کیونکہ
انہوں نے جو دین کی خدمت کی وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ
ہےغزوہ حنین کے موقع پر جب لوگوں کو مال غنیمت دیا گیا تو انصار صحابہ میں کچھ
تشویش پیدا ہوئی تو آپ ﷺ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور محبت بھرے انداز میں فرمایا
کہ۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے جائیں اور تم اللہ کے
رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟ یہ سن کر انصار کی آنکھوں میں آنسوں جاری ہو گئے اور
کہنے لگے ہمارے لئے اللہ کے رسول ہی کافی ہیں۔(بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)
ایک مسلمان
ہونے کے حیثیت سے انصار صحابہ سے محبت ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے انصار صحابہ سے
محبت کا مطلب ہے کہ ہم انکے مثالی کردار کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں اور اگر
کسی مسلمان بھائی کو یا دین کو ہماری ضرورت ہو تو ہمیں اللہ کی رضا کی خاطر ان کی
مدد کریں انصار صحابہ والا جذبہ اپنے اندر پیدا فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ
کی ان پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں اور انکے صدقے ہمیں بھی اپنے اندر اخوت و بھائی
چارہ پیدا کرنے توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Dawateislami