انصار صحابہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ایک فرمان پر اپنے مہاجر بھائیوں کے ساتھ اخوت کا رشتہ قائم کیا۔ جب مسلمان مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو وہ بےسر و سامانی کی حالت میں مدینہ پہنچے نبی کریم ﷺ نے انصار صحابہ کرام کو بلایا اور ان سے فرمایا: یہ تمہارے بھائی ہیں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان تھا کہ وہ سارے آپس میں بھائی بھائی بن گئے ۔ نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کر دیا ان دونوں کے درمیان ایسا رشتہ قائم ہوا جو دو سگے بھائیوں سے بڑھ کر تھا انصار نے اپنی ہر ہر چیزمہاجر صحابہ کے ساتھ آدھی آدھی کر لی اور ان کو اپنی ہر چیز میں مکمل ساجیداری اختیار کرنے کا حق دیا۔

حضور کی صحابہ سے محبت بے لوث اور بے مثالی تھی انصار صحابہ بھی نبی کریم ﷺ کے ایک اشارے پر اپنا گھر بار، مال سب کچھ لٹا دیتے۔ حضور کے صحابہ امت کے بہترین افراد ہیں اللہ پاک نے ان کی فضیلت قرآن پاک میں بیان فرمائی ہے اس سے بڑھ کر ان کی فضیلت اور کیا ہوگی کہ اللہ پاک نے ان کے اوصاف حمیدہ قرآن میں ذکر کیے ہیں۔ آئیے چند آیات مبارکہ کا ترجمہ ملاحظہ فرماتے ہیں: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

اللہ نے سب صحابہ سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰) (پ 27، الحدید:10) ترجمہ کنز العرفان: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبے میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

ان تمام آیات سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قطعی جنتی ہیں۔ ان سب کو یہ فضیلت آقا علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کی بدولت ملی حضور بھی صحابہ کرام سے بہت محبت فرماتے تھے بالخصوص انصار صحابہ سے۔غزوات میں کوئی انکا ہم سر ہوتا نہ ان کی کوئی مثال ہوتی نبی کریم ﷺ نے انصار کے ساتھ جو محبت و بھائی چارے کا رشتہ قائم کیا وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے۔آئیے حضور کی انصار صحابہ سے محبت کے ضمن میں کچھ حدیث مبارکہ ملاحظہ فرماتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے دشمنی نہ رکھے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی تو اللہ پاک اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ پاک اس سے ناراض ہو۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

حضور کی صحابہ کرام سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کتب حدیث میں کثیر تعداد میں حدیث مبارکہ صحابہ کرام کی محبت، ان کی قربانیاں، ان کا عشقِ رسول، ان کا خوفِ خدا مختصر یہ ہے کہ بے شمار حدیث مبارکہ صحابہ کرام کے لیے وارد ہیں۔ ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ ایک جنگل یا گھاٹی میں چلیں اور انصار ایک جنگل یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

مرات شریف میں ہے: یعنی اگر تمام جہاں کی رائے ایک ہو اور انصار کی رائے دوسری ہو تو میں انصار کی رائے کے موافق رائے دوں گا تمام کی راہوں پر انصار کی رائے کو ترجیح دوں گا یہ مطلب نہیں کہ میں انصار کی اتباع کروں گا سارا جہاں حضور کی پیروی کرنے والا ہے۔

دعائے مصطفیٰ: اے اللہ انصار کی اور ان کے بیٹوں اور پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

ان تمام نقلی دلائل سے صحابہ کرام کی فضیلت، آقا کی ان سے محبت واضح ہوتی ہے اللہ پاک ہمیں صحابہ کرام کی حقیقی معنوں میں محبت نصیب فرمائے اور ان کا فیضان نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین