اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو امت مسلمہ میں سب سے افضل مقام عطا فرمایا اور صحابہ کرام میں انصار صحابہ کو ایک خاص فضیلت حاصل ہے۔ تاریخ اسلام میں انصار صحابہ کا مقام و مرتبہ بہت بلند و بالا ہے۔ یہ وہ خوش نصیب ہستیاں ہیں جنہوں نے مہاجرین مکہ کو اپنے گھر، مال اور جان سے پناہ دی، ان کی مدد کی اور خود سے بڑھ کر ان کو عزت دی۔

ان حضرات کا محبت رسول کا جذبہ اس قدر خالص تھا کہ قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ میں ان کی تعریف کی گئی۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

اس آیت مبارکہ میں انصار صحابہ کرام کی انتہائی مدح و ثنا کی گئی ہے۔ اس میں انصار کی محبت، ایثار اور اخلاص کو بیان کیا گیا آقا کریم ﷺ انصار صحابہ کرام سے بے حد محبت فرماتے تھے۔آپ ﷺ کی کئی احادیث میں انصار صحابہ کی فضیلت کا بیان ہے۔

چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان سے بغض منافقت کی نشانی ہے۔(بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ انصار صحابہ سے محبت درحقیقت ایمان کامل کا حصہ ہے۔ ایک اور مقام پر حضور اکرم ﷺ نے انصار صحابہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری میں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

اس حدیث مبارکہ میں حضور ﷺ کی انصار صحابہ سے محبت کا بیان ہے۔ گویا نبی اکرم ﷺ فرما رہے ہیں کہ انصار کی وفاداری،اخلاص اور قربانی ایسی ہے کہ میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوں اور یہ انصار صحابہ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔

غزوہ حنین کے موقع پر بھی جب مال غنیمت تقسیم ہوا تو نو مسلموں کو زیادہ مال دیا گیا۔ اس پر بعض انصار کے دل میں خیال آیا کہ شاید ہمیں کم حصہ ملا۔اس پر حضور نے انصار صحابہ کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے جائیں جبکہ تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟ یہ سن کر انصار زار و قطار رونے لگے اور عرض کیا: ہم اللہ کے رسول پر ہی راضی ہیں۔ (بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)

اس واقعے سے ظاہر ہوا کہ انصار صحابہ کی محبت دنیا کے مال و اسباب سے نہیں,بلکہ حضور ﷺ کی ذات اقدس سے تھی۔حضور ﷺ نے بھی ان سے محبت کا اظہار فرما کر ان کو شرف بخشا۔

انصار صحابہ اسلام کی تاریخ کے روشن ستارے ہیں۔ان کا کردار، مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ان کی قربانیاں دین اسلام کے لیے بہت زیادہ ہیں۔ ان کی قربانیوں اور آقا ﷺ سے مخلصانہ محبت کی وجہ سے آقا ﷺ نے بے شمار مقامات پر ان کی تعریف فرمائی اور ان کے لیے دعائیں بھی فرمائیں۔

ایک مقام پر آقا ﷺ نے انصار صحابہ کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! انصار پر رحم فرما ان کے بیٹوں پر رحم فرما اور ان کے پوتوں پر رحم فرما۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: اے اللہ! انصار اور ان کی اولاد اور ان کی آنے والی نسلوں کو بخش دے۔(مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

انصار صحابہ کے اعمال کی وجہ سے قرآن کریم میں بھی ان کا اجر بیان کیا گیا چنانچہ ارشاد ربانی ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

ان آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ سے ہمیں انصار صحابہ کا مقام و مرتبہ پتا چلتا ہے۔

یہ صحابہ تاریخ اسلام کے روشن ستارے ہیں۔ ہمیں ان کی پیروی کرنی چاہیے۔آقا ﷺ نے اپنے تمام صحابہ کو ستاروں کی مانند فرمایا۔تو ہم ان ستاروں کی پیروی کر کے ہی ہدایت اور حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں تمام صحابہ کرام سے محبت کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔