حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت حافظ سلطان احمد،پاکپورہ سیالکوٹ
انصار عربی
لفظ نَصَرَ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں مدد کرنے والے۔ جب مکہ مکرمہ میں کفار نے
مسلمانوں پر ظلم بڑھا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت
فرمائی۔ مدینہ کے مسلمانوں نے نہ صرف آپ ﷺ کا استقبال کیا بلکہ اپنے گھر، مال،
باغات اور کاروبار تک مہاجرین کے ساتھ بانٹ دیے۔ اسی وجہ سے وہ انصار کہلائے، ان
کی مدد، وفاداری، اسلام کی خاطر قربانی اور اخلاص کی وجہ سے نبی کریم ﷺ انصار سے
بے حد محبت فرماتے تھے۔
آپ ﷺ انصار کے
بچوں سے بھی شفقت و محبت فرماتے، آپ ان کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور ان کے ساتھ
حسنِ سلوک فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی محبت صرف انصار کے بڑوں
تک محدود نہ تھی بلکہ ان کے خاندانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی: رسول اللہ ﷺ نے قیامت تک آنے والے
مسلمانوں کو یہ تعلیم دی کہ انصار سے محبت رکھو، کیونکہ ان سے محبت دراصل رسول
اللہ ﷺ سے محبت کی علامت ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ
کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض منافقت کی
نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
حضرت زید بن ارقم
بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، انصار کے
بیٹوں کی مغفرت فرما، انصار کے پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
قرآن پاک میں
بھی انصار صحابہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ
وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا
یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى
اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ
فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں
نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت
کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے
جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو
اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔
ایک اور جگہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ
وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ
وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ
فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ:
100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے
پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں
باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
Dawateislami