انصار کا مطلب
مدد گار ہے، انصار مدینہ کے وہ مسلمان ہیں جنہوں نے مہاجرین کو اپنے شہر میں
ٹھکانہ دیا اور نبی کریم ﷺ کی مدد کی۔
حضور ﷺ کو
انصار صحابہ سے محبت تھی آپ ان کی خوشی میں خوش ہوتے اور لوگوں کے سامنے ان کی
محبت کا اظہار فرماتے ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے تھے۔
حضور
کا انصار صحابہ سے پیار: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
حضور ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور
فرمایا: الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو
الہی تو جانتا ہے اے انسان تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/ 556،
حدیث: 3785)
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک جنگل
میں چلے اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا
گھاٹی میں چلوں گا اور انسان اندرونی لباس ہے اور باقی لوگ بیرونی لباس۔ (بخاری، 3/116،
حدیث: 4330)
انصار
سے محبت کی فضیلت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض
ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
نبی کریم ﷺ کی
صفات سے ایک صفت محبت ہے جو ایک عظیم صفت ہے۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام بچوں اور
صحابہ سے محبت فرماتے تھے، آئیے آقا کے صحابہ سے محبت کا واقعہ پڑھتے ہیں حضرت
عبداللہ بن مغل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صحابہ کے
متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے
محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے
بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اس نے اللہ
پاک کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تقلید دی تو قریب ہے اللہ پاک اسے پکڑے۔
Dawateislami